تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 179

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰى ؕ۰۰۲۶ اس پر اللہ (تعالیٰ) نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے پکڑ لیا۔حَلّ لُغَات۔نَکَال نَکَالٌ نَکَلَ سے اسم ہے اور نَکَلَ بِفُلَانٍ کے معنے ہیں صَنَعَ بِہٖ صَنِیْعًا یَحْذُرُ غَیْرَہُ اِذَارَاٰہُ کسی امر کے مرتکب ہونے پر کسی سے ایسا سلوک کیا کہ دوسرا شخص اس سلوک کو دیکھ کر عبرت پکڑے اور وہ ویسے کام کا مرتکب نہ ہو (اقرب) پس اِلنَّکَالُ کے معنے ہیں ایسی سزا جو عبرت دلا دے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ نے اُس کو موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کے ماتحت نکالِ آخرت کے ذریعہ سے تباہ کر دیا۔یہاں نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ یا تومفعول لہٗ ہے اوریا مفعول مطلق ہے کیونکہ نَکَلَ بِہٖ کے معنےبھی اَخَذَہٗ کے ہی ہوتے ہیں۔پس اس کے یا تو یہ معنے ہو جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو عذابِ آخرت اور عذابِ اُولیٰ میں مبتلا کرنے کے لئے پکڑایا بُری طرح پکڑا۔آخرت کے لحاظ سے بھی اور اُولیٰ کے لحاظ سے بھی۔یہاں بھی وہی نتیجہ نکالا گیا ہے جو اسلامی غلبہ کی پیشگوئی سے نکالا گیا تھا کہ موسیٰ ؑ کی جیت سے نہ صرف وہ پیشگوئی پوری ہو گئی جو موسیٰ ؑ کے غلبہ کے متعلق تھی بلکہ اس پیشگوئی کے ظہور سے قیامت کا ثبوت بھی مل گیا کیونکہ یہ دونوں پیشگوئیاں آپس میں وابستہ و پیوستہ تھیں جب ایک ناممکن بات مخالف حالات کے باوجود پوری ہو گئی تو اس سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ دوسری بات بھی ایک دن پوری ہو جائے گی۔درحقیقت ہر نبی جو اس دنیا میں آیا ہے اُس کا خدا تعالیٰ پر ایمان پیدا کرنے کے بعد مقدّم کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگو ں کے دلوں میں قیامت کے متعلق ایمان اور یقین پیدا کرے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے غلبہ اور اپنی کامیابی کی پیشگوئی کو قیامت کے ساتھ جوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں مخالف حالات کے باوجود ایک دن تم پر غالب آئوں گا اور میرا یہ غلبہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ قیامت کے متعلق میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بھی ایک دن پورا ہو جائے گا کیونکہ میرا کام مُردہ روحوں کو زندہ کرنا ہے جو بظاہر حالات بالکل ناممکن دکھائی دیتا ہے اگر یہ زندگی ایک دن پیدا ہو گئی اگر یہ رُوحانی مردے ایک دن زندہ ہو گئے اور اگر یہ ناممکن حالات ایک دن ممکن نظر آنے لگے تو تمہیں یقین کر لینا چاہیے کہ اگلے جہان کی زندگی کے متعلق جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بھی بالکل صحیح اور درست ہے۔کیونکہ اگر مردہ روحیں اس جہان میں زندہ ہو سکتی ہیں تو اگلے جہان میں بھی مردے زندہ ہو سکتے ہیں۔اس نظارہ کو دیکھنے کے بعد قیامت پر یقین لانا بالکل آسان ہو جاتا ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس خدا کی قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اس جہان میں