تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 153
طور پر غلبہ حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔سب میں سے اعلیٰ اور فائق بننے کے لئے مندرجہ ذیل قابلیتوں کا ہونا ضروری ہے اور اگر تم غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ان کے مسلمان ہوتے ہی یہ قابلیتیں پیدا ہو چکی ہیں اوراب روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہیں اور اسی میں ان کی کامیابی کا راز ہے چنانچہ فرماتا ہے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔نَزَعَ کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔اوّلؔ کَفَّ عَنْہُ اُس سے رُک گیا اور دوسرےؔ یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ وہ کسی چیز کا مشتاق ہوا۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے نَزَعَ نِزَاعًا اِلَی الشَّیءِ ذَھَبَ اِلَیْہِ یعنی نَزَعَ اِلَی الشَّیءِ کے معنے ہوتے ہیںاُس چیز کی خواہش دل میں پیدا ہوئی اور جب نَزَعَ اِلٰی اَھْلِہٖ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے اِشْتَاقَ اس کے دل میںاپنے اہل سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا یا اس کے دل میں اپنے اہل کی طرف رغبت پیدا ہوئی (اقرب) ان دو معنوں کو ملحوظ کرتے ہوئے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ترقی کے لئے مندرجہ ذیل قابلیتوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اوّلؔ ترقی کرنے والی قوم کے اندرمادہ صبر کا پایا جانا نہایت ضروری ہے یعنی اُس میں یہ قابلیت ہونی چاہیے کہ اُسے جس بات سے بھی روکا جائے رُک جائے تاکہ جب بھی بدیوں کے مواقع آئیں خرابیوں اور تباہیوں کے اوقات آئیں وہ اپنے نفس کو روک لے اور اُن بدیوں میں ملوّث ہونے سے اپنے آپ کو بچا لے یہی وہ خوبی ہوتی ہے جس کو پیدا کرنے کی وجہ سے ایک قوم جیت جاتی ہے اور دوسری قوم اس سے محروم ہونے کی وجہ سے شکست کھا جاتی ہے۔ورنہ جہاں تک آنکھ، کان، دل اور دماغ وغیرہ کا سوال ہے وہ سب میں یکساں ہوتے ہیں فرق صرف یہ ہوتاہے کہ بعض لوگ اپنے آپ کو موقعہ پڑنے پر بُری باتوںسے روک نہیں سکتے اور بعض روک لیتے ہیں۔روکنے والے جیت جاتے ہیں اور دوسرے لوگ ہار جاتے ہیں۔دوسریؔ چیز جس کا ترقی کرنے والی قوم کے اندر پایا جانا نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی اچھی چیز اس کے سامنے آئے اُس کے دل میں یہ شدید شوق پیدا ہو جائے کہ کسی طرح میں اس چیز کو حاصل کر لوں گویا صفتِ صبر ؔاور صفتِ اشتیاقِ شدیدیا رغبتِ شدید یہ دو خوبیاں جس قوم کے اندر پائی جائیں وہ یقیناً دنیا پر غالب آجاتی ہے۔اور یہی دو چیزیں ہیں جن پر ترقیات کا مدار ہے۔ایک بڑا ڈاکٹر، ایک بڑا انجینئر یا ایک بڑا سیاستدان کیوں مشہور ہوتا ہے؟ اِسی لئے کہ اس ڈاکٹر کو اپنے ڈاکٹری کے فن میں اشتیاق ہوتا ہے۔اس انجینئر کو اپنے انجینئرنگ کے کام کی طرف رغبت ہوتی ہے اور وہ سیاستدان اپنے ملک کی سیاسی ترقی کی تدابیر میں منہمک رہتا ہے۔گاندھی جی کو ہی دیکھ لو کس طرح دن رات ملکی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔اُن میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہے یہی کہ گاندھی جی اس کام میں تن من سے لگ گئے اور دوسروں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ورنہ جہاں تک آنکھ،