تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 154
کان، ناک، اور مُنہ وغیرہ کا سوال ہے جس طرح دوسروں کی آنکھیں ہیں اسی طرح گاندھی جی کی آنکھیں ہیں جس طرح دوسروں کے کان ناک اور مُنہ ہیں اِسی طرح اُن کے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ اور لوگ تو جوئے بازی کرتے رہے یا سینما اور میوزک وغیرہ میں مشغول رہے اور وہ اس کام میں لگے رہے اگر وہ بھی اسی کام میں لگ جاتے تو آج وہ بھی بڑے بڑےکام کرنے والے سمجھے جاتے۔یا ایک ڈاکٹر سے مریض کیوں اچھے ہوتے ہیں اور دوسرے سے کیوںاچھے نہیں ہوتے؟ اسی لئے کہ ایک شخص نے ڈاکٹری کے مطالعہ میں اور معالجہ میں انہماک پیدا کر لیا اور اس فن کے متعلق اُس نے رغبت اور اشتیاق کا اظہار کیا اور دوسرے نے رغبت سے کام نہ لیا۔تو ترقی کرنے کے لئے دو قابلیتوں کا پایا جانا نہایت ضروری ہوتا ہے اوّلؔ یہ کہ جب کسی بُری بات سے اُسے روکا جائے تو وہ رُک جائے دوسرےؔ یہ کہ جس قدر مفید اور کارآمد چیزیں ہوں اُن کے حصول کی اُس کے دل میں شدید رغبت پائی جاتی ہو۔وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی انہی خوبیوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جتنی چیزیں انسانی ترقی میں حائل ہو سکتی ہیں اُن سب سے یہ لوگ بچتے ہیں۔تم میں اور ان میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ تم بعض چیزوں کے متعلق سمجھتے ہو کہ وہ بُری ہیں مگر پھر بھی اُن سے بچتے نہیں۔لیکن مسلمانوں کو جس چیز کے متعلق یہ علم ہو جائے کہ وہ بُری ہے اُس کے قریب بھی وہ نہیں پھٹکتے۔اس ایک بات سے ہی اندازہ لگا لو کہ ترقی کون کر سکتا ہے تم ترقی کر سکتے ہو یا مسلمان ترقی کر سکتے ہیں۔تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تم مانتے ہو شراب بُری چیز ہے۔تم مانتے ہو جوا بُری چیز ہے مگر پھر نہ تم شراب سے بچتے ہو نہ جوئے سے رُکتے ہو مگر مسلمان چونکہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ بُری چیزیں ہیں اس لئے نہ وہ شراب کے قریب جاتے ہیں نہ وہ جوئے کے قریب جاتے ہیں۔یہ علامت ہے اِس بات کی کہ مسلمانوں کے اندر بڑھنے اور ترقی کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے۔مگر تمہارے اندر وہ مادہ نہیں پایا جاتا۔تم بھی کہتے ہو کہ سچ بڑی اچھی چیز ہے اور مسلمان بھی کہتے ہیں کہ سچ بڑی اچھی چیز ہے مگر تم سب جھوٹ بولتے ہو اور مسلمان سب سچ بولتے ہیں۔تم کہتے ہو کہ انسان کو وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے مگر باوجود یہ تسلیم کرنے کے کہ وقت ضائع کرنا بُری بات ہے تم اپنے وقت کو ضائع کر دیتے ہو۔تم مانتے ہو کہ دوسروں پر ظلم نہیں کرنا چاہیے مگر پھر تمہاری یہ حالت ہے کہ تم دن رات ظلم سے کام لیتے رہتے ہو۔تم مانتے ہو کہ امانت بڑی اچھی چیز ہے مگر تمہاری عملی حالت یہ ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی شخص امانتًا روپیہ رکھواتا ہے تو تم کھا جاتے ہو۔اب بتائو جب تم اپنے نفوس کو بُری باتوں سے نہیں روک سکتے اور مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ ہر بُری بات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تو تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ مسلمانوں میں ترقی کرنے کی قابلیت نہیں ہے۔