تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 152
ہے۔اُن کی مراد عالمِ روحانی سے نہیں تھی بلکہ کہانت وغیرہ کی طرف ان کا اشارہ تھا کہ اس قسم کے علوم کا انہیں کچھ پتہ نہیں۔اسی طرح دنیا پر صنعت کے ذریعہ سے غلبہ حاصل ہوتا ہے مگر ان میں کوئی ایسے صناع بھی نہیں ہیں جن کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ دنیا کو یہ لوگ مغلوب کر لیں گے۔اتنے بڑے جرنیل بھی نہیں ہیں کہ ان کے متعلق خیال کیا جاسکے کہ یہ دنیا کو فتح کر لیں گے۔اتنا بڑا رعب اور دبدبا رکھنے والے بھی یہ لوگ نہیں ہیں کہ دنیا مرعوب ہو کر ان کے پیچھے چل پڑے گی۔چند غریب آدمی ہیں جو ایمان لائے ہیں اور اُن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ساری دُنیا پر غالب آجائیں گے حالانکہ نہ اُن میں کوئی قابلیت پائی جاتی ہے نہ اُن کے اندر ذاتی جوہر ایسے نظر آتے ہیں کہ گو آج یہ قابل نہیں ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد اپنی قابلیت کا سکّہ بٹھا لیں گے۔صرف نماز پڑھ لینا یا کلمہ پڑھ لینا اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ دنیا کو بھی مغلوب کر لیں گے۔دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے مخصوص قابلیتوں کا پایا جانا ضروری ہے اور وہ قابلیتیں ہمیں اُن میں دکھائی نہیں دیتیں بلکہ اُن قابلیتوں کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔گویا نہ بالفعل انہیں یہ کمالات حاصل ہیںاور نہ بالقوۃ انہیں یہ کمالات حاصل ہیں۔اگر ایک کارخانہ قائم ہو رہا ہو تو اس کے متعلق امید کی جا سکتی ہے کہ اگر آج نہیں تو کل اس کارخانہ کے ذریعہ لاکھوں روپے آجائیں گے مگر یہ تو وہ لوگ ہیں کہ نہ بالفعل اُنہیں کوئی کمال حاصل ہے اور نہ بالقوّۃ انہیں کوئی کمال حاصل ہے اور جب حالت یہ ہے تو اس قسم کے لوگوں کے ذریعہ کسی آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونے والے ایک موہوم غلبہ کو قیامت کے وجود کی دلیل کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ اعتراض ہے جو سورۂ نبأ کے مضامین پر پیدا ہوتا تھا اور سورۂ نازعات میں اسی کا جواب دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا آج مومن تم کو ذلیل نظر آتے ہیں اُن میں کوئی لیاقت نہیں۔یہ اپنی قوم کے سب سے کم تعلیم یافتہ سب سے کم تجربہ کار۔اور سب سے کم فنون کے جاننے والے ہیں ہر پیشہ اور علم میں پیچھے ہیں۔تم ان کو ذلیل سمجھتے ہو۔ناکارہ خیال کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ کہاں جہاں داری اور سیادت کے قابل ہو سکتے ہیں لیکن یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر وہ قابلیتیں پیدا کر دی ہیں اور پیدا کر دے گا جن سے انسانوں کو سیادت اور کامیابی حاصل ہوا کرتی ہے اور یہ اپنے عمل سے وہ سب باتیں دکھا دیں گے۔چنانچہ فرماتا ہے یہ تم کو بے کار وجود نظر آتے ہیں لیکن ہم شہادت کے طور پر پانچ صفات پیش کرتے ہیں جن کے متعلق تم دیکھو گے کہ وہ آہستہ آہستہ مسلمانوں میں پیدا ہوتی چلی جائیں گی اور جس قوم میں یہ پانچ صفات پیدا ہو جائیں وہ کبھی ہار نہیں سکتی۔تمہارا بڑا اعتراض یہی ہے کہ یہ لوگ علم میں ،دولت میں، قوت میں،لڑائی کے فنون اور تجربہ وغیرہ میں بہت پیچھے ہیں بلکہ یہ چیزیں ان کو حاصل ہی نہیں حالانکہ علم اور دولت اور قوت اور فنون وغیرہ آسمان سے گرا نہیں کرتے اور نہ یہ چیزیں ایسی ہیں جو دنیا پر یقینی