تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 150

اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ وہ فنونِ جنگ کے بڑے ماہر اور تیراک ہو جائیں گے۔کیونکہ جو شخـص کسی فن میں ماہر ہو جاتا ہے اُس کے متعلق یہی کہتے ہیں کہ وہ اس فن میں تیرتا ہے یعنی سہولت سے اپنے فرائض کو بجا لاتا ہے۔یہ نظارہ بھی صحابہؓ نے دکھایا وہ فنون جنگ کے ایسے ماہر ہو گئے کہ بعد میں جب قیصرو کسریٰ کی تجربہ کار اور تنخواہ دار رفوجوں سے اُن کا مقابلہ ہوا تب بھی یہ لوگ اُن پر غالب رہے۔دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اُن کی جنگیں مدینہ سے دُور دُور چلی جائیں گی اور جس طرح تیرنے والا کنارہ سےدُور سے چلا جاتا ہے اسی طرح مدینہ سے شروع ہو کر دشمن کو دباتے ہوئے وہ دُور دُور تک نکل جائیں گے چنانچہ جنگ کے بعد جنگ ہوئی اور آخر اطرافِ عرب تک جنگیں جا پہنچیں۔السّٰبِقٰتِ سَبْقًامیں مسلمانوں کی پے در پے جنگیں کرنے کی پیشگوئی پھر فرمایا فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا ہم اُن گروہ مسلمین کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔جب جنگ دُور دُور تک پھیل جاتی ہے اور ایک کے بعد دُوسری اور دوسری کے بعد تیسری جنگ شروع ہو کر اُس کا سلسلہ لمبا ہوتا چلا جاتا ہے تو عام طور پر قومیں تھک جاتی ہیں مگر فرماتا ہے کہ مسلمانوں میں ایسے آد می موجود ہوں گے جو اپنے اندر یہ روح رکھتے ہیں ہوں گے کہ جنگ کی لمبائی اور اس کی وسعت اُن کو تھکائے گی نہیں۔اُن کے حوصلے بڑھتے جائیں گے اور ان کے ایمان زیادہ ہی ہوتے جائیںگے یہاں تک کہ وہ جان دینے کو ایک کھیل سمجھنے لگیں گے اور ایک دوسرے سے اس میدان میں بڑھنے کی کوشش کریں گے جس طرح فٹ بال اور کرکٹ کی ٹیموں میں کھلاڑی ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح وہ جان دینے میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کریں گے اور آخر فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا کا زمانہ آجائے گا اور زمامِ حکومت اُن کے ہاتھ میں آجائے گی اور جن قوموں میں اُوپر والے اخلاق پیدا ہو جائیں حکومت اُن ہی کے ہاتھ میں آیا کرتی ہے۔حکومت کو اُن کے ہاتھوں میں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔دُشمن کے مقابلہ میں اِغْرَاق کی کیفیت کا پیدا ہو جانا اور اس قدر اپنے اندر انہماک پیداکر لینا کہ اُس فن میں ایک سہولت اور لذت محسوس ہونے لگے اور پھر قومی قربانی کے مقابلہ میں آپس میں مسابقت کی روح کا پیدا ہو جانا یہ قوم کو غالب بنادیا کرتا ہے۔اور یہی پیشگوئی مسلمانوں کے متعلق ان آیات میں کی گئی ہے چنانچہ ایسا ہی نظارہ صحابہؓ نے بعد میں دکھایا۔سورۃ نازعات کی پہلی آیات کے تیسرے معنے تیسرا سلسلۂ مضامین ایک اور بھی اس سے نکلتا ہے اور وہ روحانی قابلیت کا ہے نَزَعَ یَنْزِعُ نُزُوْعًا عَنْ کَذَا کے معنے ہوتے ہیں کَفَّ عَنْہُ اس سے رُک گیا اور نَشَطَ