تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 151
الدَّلْوَمِنَ الْبِئْرِ کے معنے ہیں نَزَعَھَا وَانْتَشَلَھَابِلَا بَکْرَۃٍ یعنی بغیر چرخی کے ہاتھ سے پانی نکالا جو مشقت کا کام ہوتا ہے۔اس سوال کا جواب کہ کمزور مسلمان کیونکر دنیا پر غالب آئیں گے جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے قرآن کریم نے غلبۂ اسلام اور قیامت دونوں کو ملا کر بیان کیا ہے اور بتا یا ہے کہ تم اسلام کے غلبہ اور قیامت دونوں کے منکر ہو مگر یہ دونوں باتیں ہو کر رہیں گی اور ان میں سے ایک چیز دوسری کا ثبوت ہوگی یہی مضمون سورۂ نبأ میں تھا۔اب اللہ تعالیٰ نے کفار کے ایک اعتراض کے پہلو کو لیا ہے۔انسانی فطرت میں یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ مان لیا خدا ایسا کر دے گا مگر دنیا میں خدا جو کچھ کرتا ہے اس کے کچھ آثار اور شواہد بھی پہلے سے ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں خدا تعالیٰ بچہ پیدا کرتا ہے اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا مگر اس کے لئے خدا تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں میں بچہ کی قابلیت رکھی ہے۔جب ایک مرد اور عورت کا آپس میں نکاح ہو جاتا ہے تو ہمیں نظر آجاتا ہے کہ اب دونوں میں ہیجان پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے۔پھر میاں بیوی اکٹھے رہتے ہیں تو ہمیں اور زیادہ یقین پیداہو جاتا ہے کہ اب بچہ پیدا ہونے کے آثار شروع ہو گئے ہیں۔چند دنوں کے بعد اُن آثار کاظاہر میں بھی علم ہو جاتا ہے اور ہر شخص کہنے لگ جاتا ہے کہ اب اُن کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے گا۔گو بچہ پیدا ہونے میں ابھی دیر ہوتی ہے مگر بہرحال انسان سمجھ لیتا ہے کہ چند ماہ کے بعد بچہ ضرور پیدا ہو جائے گا کیونکہ آثار نظر آنے لگ گئے ہیں۔یا ایک لڑکا علم حاصل کرنے کے لئے کالج میں جاتا ہے تو ہم جانتے ہیں یہ ایک دن پڑھ جائے گا یا اگر کوئی شخص کہے فلاں آدمی نے محل بنانا ہے اور ہمیں یہ بھی نظر آتا ہو کہ اس کے پاس مال ہے دولت ہے طاقت ہے تو گو ہمیں ظاہر میں محل کے آثار نظر نہ آتے ہوں مگر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ چونکہ محل کے سامان موجود ہیں۔ارادہ موجود ہے۔بنانے والے موجود ہیں۔اس لئے ایک دن محل بھی بن جائے گا۔تو دنیا میں کسی چیز کے متعلق لوگوں کو اُس وقت تک یقین نہیں آتا جب تک اُس کے کچھ نہ کچھ آثار وہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھنے لگ جائیں۔اسی اصول کے مطابق کفار مسلمانوں پر اعتراض کرتے تھے کہ تم کہتے ہو قیامت آئے گی اور جب تم سے پوچھا جاتا ہے کہ قیامت کا ثبوت کیاہے تو تم کہتے ہو اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام غالب آجائے گا اور کفر مٹ جائے گا اور اسلام کا غلبہ اس بات کی دلیل ہو گا کہ جو دوسری بات بتائی گئی ہے وہ بھی ایک دن پوری ہو جائے گی مگر یہ غلبۂ اسلام جسے قیامت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے خود ابھی ثبوت کا محتاج ہے اور ہمیں اُس کے کوئی آثار ظاہر میں نظر نہیں آتے۔آٹھ دس آدمی ہیں جو ابھی ایمان لائے ہیں مگر اُن میں دنیا پر غالب آنے کی کوئی روح نظر نہیں آتی۔انسان دنیا پر غالب آتا ہے اپنے علم کے زور سے مگر ان میں کون سا عالم