تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 131
چسپاں ہو سکتے ہیں یا نہیں۔پھر آیتوں کے باہمی جوڑ کو دیکھیں گے کہ اُن کے لحاظ سے وہ معنی کہاں تک موزون ہیںپھر سیاق دیکھیں گے کہ اس کے مطابق وہ بنتے ہیں یا نہیں۔اس کے بعد اگلی آیتوں کو دیکھیں گے کہ اُن کے ساتھ ان معنوں کی مناسبت سے پچھلی آیتوں کا کوئی جوڑ ثابت ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔غرض کئی باتوں کو دیکھا جائے گا اور کئی پہلوئوں سے ان معنوں پر غور کیا جائے گا اگر یہ معنے مطابقت کھائیں گے تو انہیں لے لیا جائے گا ورنہ ان کو ردّ کر دیا جائے گا۔مثلاً یہی دیکھ لو وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا سے مراد بعض نے وہ ستارے لئے ہیں جو ایک افق سے دوسرے افق کی طرف جاتے اور پھر دوسرے افق میںسے نکل آتے ہیں۔اب یہ ایک معنے نَازِعَات کے نکال لئے جاتے ہیں مگر جب وَالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا کے الفاظ آتے ہیں تو پھر بھی یہی معنی کئے جاتے ہیں کہ یہ ستارے ہیں جو ایک افق سے دوسرے افق کی طرف جاتے ہیں۔اول تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں دو آیتیں بیان کی گئی ہیں مگر اُن کے دو معنے نہیں کئے جاتے بلکہ ایک ہی معنے کئے جاتے ہیں۔نَازِعَات سے بھی ستاروں کا جانا اور واپس آنامراد لیا جاتا ہے اور نَاشِطَات سے بھی ستاروں کا جانا اور واپس آنا مراد لیا جاتا ہے۔اب یہ کیسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بات نَازِعَات میں بیان کی تھی وہی اس نےنَاشِطَات میں بیان کر دی کوئی زائد بات اُس نے بیان نہیں کی یہ بات تو نہایت ردّی اور فصاحت سے گرے ہوئے کلام میں پائی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی کتاب تو ہر قسم کے نقائص سے منزّہ اور فصاحت اور بلاغت کے اعتبار سے دنیا کی تمام کتابوں پر فوقیت رکھتی ہے اُس میں ایسی بات کس طرح آسکتی ہے کہ نَازِعَات میں بھی وہ ستاروں کے آنے جانے کا ذکر کرے اور نَاشِطَات میں بھی وہ ستاروں کے آنے جانے کا ذکر کرے۔یہ پہلا ثبوت ہمیں اس بات کا ملتا ہے کہ جو معنے ان الفاظ کے کئے گئے ہیں گو وہ لغت کے لحاظ سے تو درست ہوں مگر ان آیات میں وہ معنے مراد نہیں۔ستاروں کا ذکر اس جگہ اسی صورت میں مراد لیا جا سکتا تھا کہ دونوں آیتوں کا الگ الگ مضمون ہوتا۔ان مفسّرین کا اس بات پر مجبور ہونا کہ دونوں آیتوں کے ایک ہی معنے کریں بتاتا ہے کہ یہ معنے ہی غلط ہیں ورنہ اُن معنوں کے رو سے اگر وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا کو بالکل الگ کر دیا جائے تو وَالنَّزِعٰتِ غَرْقًا سے ہی وہ معنے نکل آتے ہیں جن کو وہ بیان کرنا چاہتے ہیں۔وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا کے الفاظ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔اسی طرح وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا کے یہ معنے کئے گئے ہیں کہ یہ ستارے ہیں جو افلاک میں دوڑتے پھرتے ہیں اور اس کا استدلال کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ(الانبیاء:۳۴) والی آیت سے کیا جاتا ہے اور پھر فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا کے بھی یہی معنے کر لئے جاتے ہیں کہ یہ ستارے ہیں جو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں بڑا زور اس بات پردیا گیا ہے کہ ہر چیز اپنے اپنے دائرہ میں گردش کر رہی ہے یہ