تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 130

گے اور کہیں گے کہ تم کو کیا ہو گیا ہے کہ اتنی بات بھی نہیں سوچتے کہ یہ فقرہ کہاکس کو گیا تھا۔بے شک بادشاہ بھی دوڑ سکتا ہے اور سودا خرید کر لا سکتا ہے۔بے شک ایک فلاسفر بھی دوڑ سکتا ہے او رسودا خرید کر لاسکتا ہے۔بے شک ایک کروڑ پتی بھی دوڑ سکتا ہے اور سودا خرید کر لا سکتا ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ اس بات کا محل کیا تھا؟نوکر اس کے سامنے کھڑا تھا اور وُہ اسے کہہ رہا تھا کہ دوڑ کر بازار سے سودا خرید لائو۔پس لازمًا اس سے مراد اُس کا نوکر ہی ہو گا کوئی اور شخص نہیں ہو گا پس کسی کلام کا مفہوم سمجھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اُس کلام کے محل کو دیکھا جائے اور پھر اُس کلام کے کوئی معنے کئے جائیں۔محل کو نہ دیکھنا اور یونہی قیاس آرائی شروع کر دینا دانائی نہیں ہوتی۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی بات کا محل ہمیں معلوم نہ ہو سکے تو قرینہ دیکھنا چاہیے۔مثلاً ایک شخص گھر میں آتا ہے نوکر اُس کے سامنے نہیں مگر وہ یہی سمجھتا ہے کہ نوکر گھر پر ہو گا۔اُس وقت اتفاقًا اُسے کوئی ضروری کام پیش آجاتاہے اور وہ کہتا ہے جلّدی دوڑواور فلاں کام کر آئو۔اب بیشک نوکر ہمارے سامنے نہیں ہو گا مگر یہ قرینہ تو ہو گا کہ آقا نے اپنے گھر میں یہ فقرہ کہاپس لازمًا اس سے مراد اس کا نوکر ہی ہو گا لیکن اگر قرینہ کو نہ دیکھا جائے اور یہ فقرہ لے کر ایک شخص کہے کہ دوڑ جائو جو کہا گیا ہے تو یہ فلاں دکاندار سے کہا گیا ہے۔دوسر اکہے یہ بالکل غلط ہے میرا خیال ہے کہ فلاں کونہیں فلاں سے کہا گیا ہے۔تیسرا کہے کہ میرا قیاس کچھ اور کہتا ہے میرے نزدیک تو فلاں سے کہا گیا ہے کہ دوڑ جائو۔تو یہ ساری باتیں لغو اور بےہودہ ہوں گی۔ہم کہیں گے کہ پہلے قرینہ کو بھی تو دیکھو کہ وہ کس امر کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔قرینہ بتا رہا ہے کہ ایک شخـص نے یہ بات اپنے گھر میں کہی۔پس پہلاقیاس یہ ہو سکتا ہے کہ اُس نے یہ بات اپنے نوکر سے کہی ہو دوسرا قیاس یہ ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ بات اپنےبیٹے سے کہی ہو کیونکہ بیٹا بھی خادم کی حیثیت رکھتا ہے یا اگر اُس نے بیٹے کو نہیں کہا تو ممکن ہے اُس نے اپنے کسی اور عزیز رشتہ دار کو یہ بات کہہ دی ہو مثلاً بھتیجے کو یہ بات کہہ دی ہو یا بھانجے کو یہ بات کہہ دی ہو لیکن اگر ہم قرینہ کو تو نہیں دیکھتے اور ایک فقرہ کو لے کریہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ اس سے فلاں مراد ہو گا یا فلاں مراد ہو گا یا فلاں اس سے مراد ہو گا تو یہ بات ہماری معقول نہ کہلا سکے گی۔اِسی طرح یہاں محض یہ سوال نہیں کہ نَازِعَات کے کیا معنے ہیں یہ سوال نہیں کہ نَاشِطَات کے لغت میں کیا معنے ہیں۔یہ سوال نہیں کہ سَابِحَات کے کیا معنے ہیں۔یہ سوال نہیں کہ سَابِقَات کے کیا معنے ہیں۔یہ سوال نہیںکہ مُدَبِّرَات کے کیا معنے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اس مقام پر اور اس جگہ پر ان الفاظ کے موقع ومحل اور قرائن کے اعتبار سے کون سے معنے ہو سکتے ہیں۔پس ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس جگہ پر وہ معنے چسپاں ہو سکتے ہیں جو مفسّرین نے لئے ہیں۔ـاس غرض کے لئے اوّلؔ ہم ترتیب الفاظ کو دیکھیں گے کہ آیا ترتیب الفاظ کے لحاظ سے وہ معنی