تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 132
نہیں کہ سورج بھاگا بھاگا جا رہا ہو کہ کہیں چاند مجھے نہ پکڑ لے اورچاند اس ڈر سے دوڑ رہا ہو کہ کہیں مرّیخ مجھ پر قبضہ نہ پا لے۔مگر ہمیں فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا کے ایسے معنے بتائے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا سورج اور چاند اور ستارے سب جاندار چیزیں ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں حالانکہ اگر سورج چاند کو پکڑ لے تو اس میں کیا فائدہ ہے نقصان ہی نقصان ہے کہ نظام شمسی تباہ و برباد ہو جائے گا ہمیں سباق اُن باتوں میں تلاش کرنا چاہیے جن میں دنیا کا نفع ہے نہ کہ اُن باتوں میں جن میں نقصان اور تباہی ہے۔پھرفَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًاکے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد نجوم ہیں حالانکہ قرآن کریم اور احادیث سے بالصراحت ثابت ہے کہ تدبیرِ امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ستارے مد برات امر نہیں کہلا سکتے۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں یَقُوْلُ اللّٰہُ (عَزَّوَجَلَّ) مَن قَالَ مُطِرْنَابِنَوْءٍ کَذَا وَکَذَا فَذٰلِکَ کَافِرٌ بِیْ مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ (بخاری کتاب الاستسقاء باب قول اللہ تعالیٰ وتجعلون رزقکم انکم تکذبون)یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص کہتا ہے فلاں فلاںستارہ کے اثر کی وجہ سے بارش ہوتی ہے وہ میرا کافر ہے اور ستاروں کا مومن۔گویا رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بفرمان خدا وندی ستاروں کی طرف تدبیر امر کی نفی کرتے ہیں مگر بعض مفسّرین یہ بتاتے ہیں کہ ان سے ستارے مراد ہیں۔غرض اِن آیتوں کے جس قدر معنے کئے جاتے ہیں اُن میں سے بعض کو قرآن کریم بالنّص ردّ کرتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو استدلال کی روشنی میں قابل قبول نہیں رہتے۔اور بعض ایسے ہیں جن کو تسلیم کرنے کے نتیجہ میں بعض قرآنی الفاظ کو زائد قرار دینا پڑتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ پہلےفقرہ کے جو معنے ہیں وہی دوسرے فقرہ کے ہیں حالانکہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا ہر لفظ حکمت پر مبنی ہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ نَازِعَات کے یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ اس سے فرشتوں کے وہ گروہ مراد ہیں جو جسم کی گہرائیوں میں جا کر جان نکالتے اور پھر اسے باہر نکالتے ہیں۔بعض کہتے ہیں اس سے مراد موتیں ہیں جو جان کونکالتی ہیں۔کوئی کہتا ہے اس سے مرادنفوس ہیں جو سینہ میںغرق ہو جاتے ہیں یہ تو وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا کے معنے تھے جب وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاکے الفاظ آتے ہیں تو پھر یہ معنے کر لئے جاتے ہیں کہ اس سے مراد وہ نفوس ہیں جو قدموں سے نکالے جاتے ہیں۔کوئی کہہ دیتا ہے یہ موت ہے جو نفوس انسانی کو نکالتی ہے۔اس کے بعد وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا کا ذکر آتا ہے تو پھر کہہ دیتے ہیں یہ ملائکہ ہیں جو مومنوں کی نرمی سے جان نکالتے ہیں۔کوئی کہتا ہے اس سے مراد موت ہے جوجسم میں تیرتی ہے۔چوتھے نمبر پرفَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا کا ذکر آتا تھا اس کے بھی یہ معنے کر لئے گئے ہیں کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں جو مومنوں کی ارواح لے کر آگے نکل جاتے ہیں۔کوئی کہتا ہے اس سے مراد موت ہے جو انسان کو