تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 129
مگر ماوردیؔ کہتے ہیں کہ نہیں دو تفسیریں ہیں بعض نے ملائکہ مراد لئے ہیں اور بعض نے سات ستارے قرار دئے ہیں اور تدبیر امر سے بھی دو امر مراد لئے گئے ہیں ایک اُن کی حرکات کی تدبیراور دوسرے امور قضاء کی تدبیر جوان کے بارہ میں ہوں۔تدبیرِ ملائکہ سے بعض نے یہ مراد لیا ہے کہ الٰہی احکام کی تنفیذ جو ملائکہ پر نازل ہوتے ہیں اس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔(فتح البیان) سورۃ نازعات کی پہلی پانچ آیات کی تفسیر میں مفسرین کو ایک ٹھوکر یہ قرآن کریم کے اِن پانچ جملوں کی اس تفسیر کاخلاصہ ہے جو گزشتہ مفسّرین نے کی ہے۔جہاں تک اِن الفاظ کے معنوں کا سوال ہے ہمیں کسی ایسے معنے پر اعتراض نہیں ہو سکتا جو لغتاً صحیح ہوں جو معنے لغتًا جائز اور درست ہیں اُن میں سے ہر معنے اپنی اپنی جگہ پر چسپاں ہو سکتے ہیں مگر جب کسی کلام کی تفسیر کی جاتی ہے تو اس کلام کی صحیح تفیسر اور تشریح کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ دیکھا جائے کلام کا قرینہ کیا تھا یا اس کلام کا محل کیا تھا۔اگر اس کلام کا محل ہم سمجھ لیں تو سب سے پہلے اس کے محل کو دیکھیں گے اور اگر محل نہ ملے تو قرینہ سے اس کلام کی تشریح کی جائے گی۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے دوڑ کر بازار سے سودا خرید لائو اور ہم بھی اُس کے اس فقرہ کو سُن لیتے ہیں تو اگراُس وقت اس کا نوکر موجود تھا تو چونکہ کلام کے محل کا ہمیں علم ہو گیا ا س لئے ہم کہیں گے کہ اُس نے اس فقرہ کے ذریعہ اپنے نوکر سے کہا تھا کہ جائو اوردوڑ کر بازار سے سودا لے آئو لیکن اگر ہم کلام کے اس محل کو تونہ دیکھیں اور یہ فقرہ سُن کر کہ دوڑ جائو یہ نتائج اخذ کرنا شروع کر دیں کہ اس سے نو کر کہاں مراد ہو سکتا ہے اِس سے تو ہر انسان مراد ہے کیونکہ ہر انسان آخر دوڑ سکتا ہے یا یہ کہنا شروع کر دیں کہ اس سے مراد فلاں بادشاہ ہو گا اور جب اس سے پوچھا جائے کہ اس کا ثبوت کیا ہے تو وہ کہہ دے کہ کیا بادشاہ دوڑ نہیں سکتا یا بادشاہ بازار سے سودا خرید کر نہیں لا سکتا یا یہ کہنا شروع کر دیں کہ اُس کے اِ س فقرہ کا مطلب یہ تھا کہ فلاں مشہور فلاسفر دوڑ کر جائے اور سودا خرید لائے یا فلاں کروڑ پتی دوڑ کر جائے اورسودا خرید لائے تو ہر شخص ہمیں پاگل اور احمق قرار دے گا اور کہے گا کہ تم موقع اور محل کو بھی تودیکھو اور یہ بھی تو سوچو کہ اُس نے جس وقت یہ بات کہی ہےاس کا نوکر سامنے کھڑا تھا بے شک بادشاہ بھی دوڑ سکتا ہے۔فلاسفر بھی دوڑ سکتا ہے کروڑ پتی بھی دوڑ سکتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جب اُس نے یہ بات کہی تو اس کے کلام کا محل کیاتھا۔اگر ہم محل کو تو نہ دیکھیں اگر ہم اس امر کوتو نظر انداز کر دیں کہ اُس کا نوکر اس کے سامنے کھڑا تھا اور وہ اُسے مخاطب کر کے کہہ رہا تھا کہ جائو اور بازار سے سودا خرید لائواور خود ہی قیاس آرائی شروع کر دیں کہ یہ فقرہ کس کے متعلق ہے ایک کہے بادشاہ کے متعلق ہے۔دوسرا کہے میرا خیال ہے کہ فلاں فلاسفر کے متعلق ہے۔تیسرا کہے میرا قیاس اس طرف جاتا ہے کہ یہ فلاں کروڑ پتی کے متعلق ہے تو سب لوگ ہنسیں