تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 128
عطاء کہتے ہیں کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں کہ جہاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس جگہ پر جُرجانی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ پہلے تو ان آیات میں وائو وائو آئی تھی مگر یہاں فاء آگیاہے پس سَابِقَات پرجو عطف آیا ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ سَابِحَات سَابِقَات کا سبب ہے اور سَابِقَات نتیجہ ہے جو سَابِحَات کے بعد بیان کیا گیا ہے یعنی بوجہ تیرنے کے آگے نکل جاتے ہیں۔مگر واحدیؔ کہتے ہیں یہ دلیل باطل ہے اس لئے کہ آگے مُدَبِّرَات پر بھی فاء ہے اور آگے نکل جانا کسی کام کی تدبیر کرنے کا سبب نہیں ہو سکتا یعنی اگر وائو کی جگہ فَالسَّابِقَات پر فاء آنے کے سبب سے سَابِحَات کو سَابِقَات کا سبب قرار دیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ چونکہ مُدَبِّرَات سے پہلے بھی فاء آیا ہے اس لئے تدبیر کا سبب آگے نکل جانا ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ آگے نکل جانے کا فعل تدبیر کرنے کا سبب نہیں بن سکتا۔پس مُدَبِّرَات کے لفظ سے پہلے بھی فاء کا آنا بتاتا ہے کہ یہ دلیل غلط ہے۔امام رازی کہتے ہیں کہ واحدی کا یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ سَبْحٌ اورپھر سِبَاقٌ اور پھر تَدْبِیْر امر فی الواقعہ ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور اسی وجہ سے ایک ترتیب میں سب کا ذکر آتا ہے اس پر مؤلف فتح البیان کہتے ہیں کہ اتّصال اور سبب میں فرق ہے اس لئے رازی کا یہ جواب غلط ہے۔فاء محض عطف کے لئے بھی آتی ہے (فتح البیان) اس لئے اس سے کسی نکتہ کے نکالنے کی ضرورت نہیں۔میں نے یہ مضمون اس لئے نقل کر دیا ہے کہ بعض لوگ فاء کے استعمال سے لازمًا سبب کے معنے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ ان کے لئے یہ بحث ہدایت کا موجب ہو مگر یہ کہنا کہ فاء یونہی لایا گیا ہے یہ بھی درست نہیں اس جگہ وائو استعمال کرتے ہوئے فاء کا لانا بتاتا ہے کہ مضمون بدل گیا ہے ورنہ جب پہلی دو آیتوں پر وائو عطف لایا گیا تھا تو کیوں آخری دو آیتوں پر وائو عطف نہ لایا گیا (پہلی آیت پر جو وائو ہے وہ وائو قسم ہے) اصل بات یہ ہے کہ اس جگہ فاء ضرور دوسرے معنے دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وائو کو ترک کر کے فاء کواستعمال کیا گیا ہے۔اگر دوسرے معنے پیدا کرنے مقصود نہ ہوتے تو وائو عطف کا استعمال جاری رکھا جاتا۔وہ دوسرے معنے کیا ہیں ؟ وہ معنے میرے نزدیک ترتیب کے ہیں ان دو آیتوں میں ضرور ایسے معنے بھی پائے جاتے ہیں جو ترتیب پر دلالت کرتے ہیں اور جو پہلی آیتوں کے مضمون کےثابت ہونے کے بعد ہی حاصل ہو سکتے ہیں چنانچہ ان معنوں کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا حضرت علیؓ فرماتے ہیں اس سے مراد ملائکہ ہیں جو امر عبادت کی تدبیر سال کے شروع سے لے کر آخر تک کرتے ہیں۔ابن عباسؓ کہتے ہیں ملائکہ ہیں جو ملک الموت کے ساتھ آتے ہیں کوئی رُوح اُوپر لے جاتا ہے۔کوئی دعا پر آمین کہتا ہے کوئی استغفار کرتا ہے۔قشیریؔ کہتے ہیں کہ اس پر اجماع ہے کہ یہاں ملائکہ کا ذکر ہے