تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 9

پس اگر نوح ؑکے صحف نَبَأ تھے۔اگر ابراھیم ؑکے صحف نَبَأ تھے۔اگرموسیٰ ؑ کے صحف نبأ تھا۔اسی طرح اگر عیسیٰ ؑ کاکلام نَبَأ تھا۔اگر کریشن ؑکا کلام نَبَأ تھا اگر رام چندرؑ کا کلامنَبَأ تھا۔اگر زرتشتؑ کا کلام نَبَأ تھاتو جس کلام میں یہ سارے ہی جمع کر لئے گئے ہوں وہ یقیناً نَبَأ عظیم کہلائے گا۔اس طرح غلبہ ٔ اسلام بھی ایک ایسی چیز ہے جو تمام انبیاء کے غلبوں میں سے عظیم الشان رنگ رکھتی ہے اور درحقیقت یہ غلبہ ایسا ہے جس نے تمام انبیاء کے غلبو ں کو اپنے اندر جمع کر لیا ہے۔مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان لے لو۔نوح ؑکی قوم نے غرق ہو کر نوح ؑ کی صداقت کا ثبوت دیا اور نوح ؑ اپنی قوم پر غالب آ گیا۔مگر اس کا کیا نتیجہ ہوا یہی کہ قوم غرق ہو گئی اور وہ نوح پر ایمان لانے سے محروم رہی۔لیکن محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قوم اس طرح غرق کی گئی کہ وہ پھر آپ پر ایمان بھی لے آئی۔موسیٰ ؑ کو اپنے دشمنوں پر اس طرح غلبہ دیا گیا کہ موسیٰ ؑ کا دشمن سمندر میں ڈبو دیا گیا مگر محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دشمن سمندر کی بجائے خشکی میں ڈبو دیا گیا اور پھر خدا نے یہ سامان کئے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس ملک کا وعدہ دیا گیا تھا اُس ملک پر غلبہ دئیے جانے کا وعدہ ان کی زندگی میں پورا نہ ہوا۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح غلبہ کا وعدہ دیا گیا مگر انہوں نے اپنی زندگی میں ہی مکّہ کو فتح کر لیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے اس طرح غلبہ دیا کہ وہ اپنے دشمن سے بھاگے اور ایک غیر ملک میں اُس کے حملہ سے محفوظ ہو گئے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں غلبہ دیا کہ آپ دشمن سے بھاگے اور ایک دوسرے شہر میں جا کر اُس کے حملہ سے محفوظ ہو گئے۔لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر اپنے ملک میں واپس نہیں آئے اور نہ انہوں نے اپنی قوم کو مغلوب کیا مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پھر مکّہ میں واپس آئے اور انہوں نے اپنی قوم کو مغلوب کرلیا۔غرض جس جس رنگ میں پہلے انبیاء کو غلبہ ملااُن میں سے ہر رنگ میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غلبہ حاصل ہوا اور نہ صر ف غلبہ حاصل ہوا بلکہ اُن سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی تائید آپؐ کے شامل حال رہی۔مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کو تین سو سال میں غلبہ حاصل ہوامگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی زندگی میں ہی غلبہ مل گیا۔اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو ایسے ساتھی ملے جنہوں نے قربانی کے موقع پر کمزوری دکھائی اور وہ ثابت قدم ثابت نہ ہوئے۔لیکن رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ ساتھی عطا فرمائے جنہوں نے نہ موسیٰ ؑ کے ساتھیوں جیسی کمزوری دکھائی اور نہ عیسیٰ ؑکے ساتھیوں جیسی کمزوری دکھائی۔موسیٰ ؑ کے ساتھیوں نے جنگ کے موقع پرکمزوری دکھائی تھی اور عیسیٰ ؑ کے ساتھیوں نے اُس وقت کمزوری دکھائی جب ان کی اپنی جان خطرے میں تھی۔