تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 10

غلبہ اسلام کے مختلف نظارے درحقیقت دنیا میں دو قسم کے جذبات لوگوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قوم کی خاطر قربانی کرنے کے لئے تو تیار رہتے ہیں لیکن اپنے لیڈر کے لئے قربانی کرنے پرآمادہ نہیں ہوتے۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو اپنے لیڈر کی خاطر تو ہر وقت قربانی کرنےکے لئے تیار رہتے ہیں لیکن اپنی قوم کے لئے قربانی کرنےکی روح اُن میں موجود نہیں ہوتی۔اُنہیں صرف عشق ذاتی ہوتا ہے عشق قومی نہیں ہوتا۔مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ ساتھی عطا فرمائے جو یہ دونوں جذبات اپنے دلوں میں رکھتے تھے جہا ں قوم کے لئے انہیں قربانی کرنی پڑی وہاں آپ کے صحابہ ؓنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں جیسا نمونہ نہ دکھایا بلکہ اپنی قوم کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور جہاں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کا سوال پیدا ہوا وہاں انہوں نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اُس عشق کا ثبوت دیا جو اُن کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کے ساتھ تھا اور حضرت مسیح ؑ کے حواریوں کی طرح بزدلی نہیں دکھائی۔چنانچہ مکہ کے لوگ جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے ایک دفعہ رات کو آپؐ کے مکان کے اردگر د اکٹھے ہو گئے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کے ارادہ سے گھر سے نکل پڑے تو اُس وقت آ پ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر لٹا دیا(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان خروج النبی واستخلافہ علیا علی فراشہ)۔اور اس طرح حضرت علی ؓ نے اس امر کا ثبوت دے دیا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہ آپ کی جگہ خود صلیب پر لٹکنے کو تیار رہتے تھے تو عشق ذاتی میں بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قوم دوسرے نبیوں کی قوموں سے بڑھ گئی اور عشقِ قومی میں بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی قوم دوسرے نبیوں کی قوموں سے بڑھ گئی۔اس لئے آپ کا جو غلبہ تھا یعنی غلبۂ اسلام وہ بھی نبأ عظیم تھا کیونکہ یہ غلبہ پہلے انبیاء کے غلبوں کے مقابلہ میں نہایت ہی شاندار تھا اور آپ کی جو کتاب تھی وہ بھی نبأ عظیم تھی کیونکہ وہ گزشتہ تمام الہامی کتابوں سے بہت زیادہ شاندار تھی۔اور قیامت بھی نبأ عظیم ہے کیونکہ وہ اور تمام خبروں سے بہت زیادہ شان اور عظمت اپنے اندر رکھتی ہے۔