تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 124
جائے تو بہت زور لگتا ہے۔اِسی طرح کہتے ہیں نَشَطَ زَیْدًاا ور اس کے معنے ہوتے ہیں طَعَنَہٗ اُس کو نیزہ مارا۔اور جب کہیں نَشَتَطْہُ الْحَیَّۃُ تو اس کے معنے ہوتے ہیں عَضَّتْہُ اُس کو سانپ نے کاٹ لیا(اقرب) اور نَشَطَتِ الْاِبِلُ کے معنے ہوتے ہیں مَضَتْ عَلٰی ھُدًی اَوْغَیْرِ ھُدًی اونٹ کسی خاص راستہ پر یا یونہی جنگل میں اِدھر اُدھر چل پڑا (اقرب) پس نَاشِطَات کے معنے ہوں گے (ا)ایک چیز کو دوسری سے باندھنے والی ہستیاں (۲)کام کو کرتے وقت بہت زور لگانے والے گروہ (۳)نیزہ زنی کرنےوالے گروہ۔تفسیر۔اس آیت کی تشریح فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا کی آیت کے بعد آئے گی۔وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ۰۰۴ اور اُن (ہستیوں) کی جو دُور دُور نکل جاتی ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلسَّابِحَاتِ السَّابِحَات سَبَحَ سے اسم فاعل کا جمع مؤنث کا صیغہ ہے۔ا ور جب سَبَحَ الرَّجُلُ کا فقرہ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں تَصَرَّفَ فِیْ مَعَاشِہٖ انسان اپنے معاش کے کاموں میں لگ گیا اسی طرح اس کے معنے ہوتے ہیں نَامَ ؔ۔سو گیا۔سَکَنَؔ۔ٹھہر گیا۔اَبْعَدَ فِیْ السَّیْرِ۔دور نکل گیا۔اور سَبَحَ فِیْ الْکَلَامِ کے معنے ہوتے ہیں اَکْثَرَ فِیْہِ۔اُس نے لمبی گفتگو کی اور سَبَحَ فِی الْاَرْضِ کے معنے ہوتے ہیں حَفَرَ فِیْھَا۔اُس نے زمین میں گڑھا کھودا۔اور سَبَحَ فِیْ النَّھْرِ وَبِالنَّھْرِ کے معنے ہوتے ہیں عَامَ وَانْبَسَطَ فِیْہِ پانی میں تیراا ور تیرتے تیرتے دُور نکل گیا۔اور سَبَحَ سُبْحَانًا کے معنے ہوتے ہیں قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ۔اُس نے سبحان اللہ کہا (اقرب) پس اَلسَّابِحَات کے ایک معنے ہوں گے۔وہ گروہ جو دُور دُور نکل جاتے ہیں (۲)وہ گروہ جو قادرالکلام ہیں۔(۳)وہ گروہ جو خوب تیرنے والے ہیں (۴) وہ گروہ جو اپنے معاش کو خود پیدا کرتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت کی تشریح فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا کی آیت کے بعد آئے گی۔فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ۰۰۵ پھر (مقابلہ کر کے اپنے مد مقابل سے) خوب آگے نکل جاتی ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلسَّابِقَات السَّابِقَات سَبَقَ سے اسم فاعل کا جمع مؤنث کاصیغہ ہے اور سَبَقَ