تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 125

(یَسْبِقُ) سَبْقًا کے معنے ہوتے ہیں تَقَدَّمَہٗ وَجَازَہُ وَخَلَّفَہٗ کسی کے آگے نکل گیااور اس کو پیچھے چھوڑ گیا۔اور سَبَقَ عَلَی الشَّیْئِکے معنے ہوتے ہیں غَلَبَہٗ اس پر غالب آگیا۔(اقرب) پس اَلسَّابِقَات کے معنے ہوں گے۔وہ گروہ جو دوسروں سے آگے نکل جاتے ہیں۔(۶) وہ ہستیاں جو دوسروں پر غالب آجاتی ہیں۔تفسیر۔اس آیت کی تشریح اگلی آیت کے بعد آئے گی۔فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًاۘ۰۰۶ پھر جو (دنیا کا) کام (چلانے) کی تدبیروں میں لگ جاتی ہیں۔حلّ لُغَات۔المُدَبِّرَات تَدْبِیْر کے معنے آگے پیچھے کرنے کے ہوتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں دَبَّرَالْاَمْرَ اَیْ رَتَّبَہٗ وَنَظَّمَہٗ کسی چیز کے کسی حصہ کو پہلے رکھا اور کسی کو بعدمیں رکھا اور اس طرح اس کی ترتیب دی۔نیز کہتے ہیں دَبَّرَ الْاَمْرَ اَیْ نَظَرَ فِیْ عَاقِبَتِہٖ وَتَفَکَّرَ کسی امر کے تمام پہلوئوں پر غور کر کے اس کا انتظام کیا اور جب دَبَّرَ الْوَالِیْ اَقْطَاعَہٗ کہیں تو معنے ہوتے ہیں اَحْسَنَ سِیَاسَتَہٗ یعنی منتظم نے اپنی جاگیر کا اچھا انتظام کیا (اقرب) مُدَبِّرَات اسم فاعل کا جمع مؤنث کا صیغہ ہے پس فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا کے معنے ہوں گے کسی بات کے تمام پہلوئوں کو دیکھ کر معاملہ کا انتظام کرنےوالے گروہ۔گویا مدبّر کے لفظ میں منتظم کا فرض بھی بیان کر دیا گیا ہے کہ وہ تمام پہلوئوں کو دیکھ کر انتظام کرتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک بات کوتو دیکھے اور دوسری باتوں کو نظر انداز کر دے۔تفسیر۔سورۃ نازعات کی پہلی پانچ آیتوں کی تفسیر مختلف مفسرین کے نزدیک ان آیات کے متعلق اپنا نقطہ نظر پیش کرنے سے پہلے میں مفسّرین کے مختلف اقوال کو پیش کرتا ہوں اسی میں یہ بھی ذکر آجائے گا کہ ہمارے پُرانے بزرگوں نے اِن آیات کے کیا معنے کئے ہیں۔پہلے میں وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا اور وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا کو لے لیتا ہوں نازِعَات اور نَاشِطَات کے متعلق اکثر مفسّرین اور صحابہ ؓ اور اُمتِ محمدؐیہ کے بزرگوں کے جو اقوال ملتے ہیںوہ خلاصۃً یہ ہیں۔صاحبِ کشّاف لکھتے ہیں نَازِعَات اور نَاشِطَات فرشتوں کے وہ گروہ ہیں جو جسم کی گہرائیوں میں جا کر جان نکالتے ہیں اور پھر اُسے باہر نکالتے ہیں (جو نَشْطًا کے معنے ہیں) اور پھر اُس گروہ کی قسم کھائی جو خدا تعالیٰ کے احکام کے پورا کرنے میں تیزی سے کام کرتا ہے اور اس کے حکم کے ماتحت امورِ عالم کی تدبیر کرتا ہے۔(کشاف زیر آیت ھذا) فتح البیان میں اُوپر کے معنوں کو بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ قول اکثرصحابہؓ اور تابعین اور اُن کے بعد