تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 123
تیسرے قرآن کریم کی قسمیں خود اپنی ذات میں ایک ثبوت ہیں چنانچہ قرآن کریم میں جہاں جہاں قسمیں کھائی گئی ہیں اللہ تعالیٰ نے اُن چیزوں کو شہادت کے طور پر پیش کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر یہ چیزیں شہادت دے دیں تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ کلام خدا تعالیٰ کا ہی تھا۔اور اگر شہادت نہ دیں تو بیشک اس کے الٹ نتیجہ نکالنا۔پس وہ قسمیں خود اپنی ذات میں قرآن کریم کی سچائی کا ایک بہت بڑا ثبوت ہیں۔اُن کا نام حلف رکھو یا شہادت بات ایک ہی ہے بلکہ اگر وہ شہادتِ محضہ کے رنگ میں بھی بیان ہوں تب بھی قرآن کریم کی صداقت کا ایک ثبوت ہیں پس جو لوگ حلف کو وقعت نہیں دیتے وُہ اُن کو شہادت سمجھ کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور جو حلف کو وقعت دیتے ہیں وہ اسے شہادت مؤکد بہ حلف سمجھ کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں گویا ایک ہی وقت میں دو مختلف طبائع کے لوگوں کی تسلی کا وہ موجب ہو سکتی ہیں اور اس لئے وہ قابلِ قدر شئے ہیں نہ کہ قابل اعتراض۔کیونکہ ان قسموں نے دونوں قسم کی ضرورتوں کو پورا کر دیا۔(قرآنی قسموں کے متعلق ایک مکمل مگر اجمالی بحث انشاء اللہ پہلی قسم کے ماتحت لکھی جائے گی اور تفصیلی بحث تو ہر قسم کے نیچے آ جائے گی۔امام ابن قیم کی اقسام القرآن کتاب بھی اس بارہ میں مطالعہ کے قابل ہے اور بہت سی مفید باتیں اُس میں بیا ن ہوئی ہیں۔جزاہ اللّٰہ خیراً عن المسلمین) جن چیزوں کی اس آیت اور اگلی آیتوں میں قسم کھائی گئی ہے وہ کیا ہیں۔اس کی مفصل بحث فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا کی آیت کے آخر میں آئے گی۔وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ۰۰۳ اور اُن (ہستیوں) کی جو گرہ باندھتی ہیں خوب اچھی طرح۔حلّ لُغَات۔نَاشِطَات نَاشِطَات نَشَطَ سے اسم فاعل کا جمع مؤنث کا صیغہ ہے۔اور نَشِطَ یَنْشَطُ نَشَاطًا کے معنے ہوتے ہیں طَابَتْ نَفْسُہٗ لِلْعَمَلِ اُس نے کام کےمتعلق اپنے اندر رغبت اور خوشی پیدا کی۔اور نَشَطَ( یَنْشُطُ نَشَطًا) الْحَبْلَ کے معنے ہوتے ہیں عَقَدَہٗ رسّے کو اُس نے گرہ دی۔اور نَشَطَ الْعُقْدَۃَ کے معنے ہوتے ہیں اشَدَّھَا گرہ کو اس نے سخت باندھا اور جب کہیں نَشَطَ الدَّلْوَمِنَ الْبِئْرِ تو اس کے معنے ہوتے ہیں نَزَعَھَا بِغَیْرِ قَامَۃٍ وَاِنْتَشَلَھَا بِلَا بَکْرَۃٍ اُس نے ڈول کو بغیر چرخی کے ہاتھوں سے کھینچا۔اور جب یہ لفظ ان معنوں میں استعارۃً استعمال ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اُس نے بہت زور لگا یا کیونکہ جب پانی بغیر چرخی کے نکالا