تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 122

صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اُس نے کہا میں آپ سے یہ بات دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ جو باتیں کہہ رہے ہیں اُن کے کہنے کا آپ کو خدا نے حکم دیا ہے؟ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا مَیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ رہا ہوں۔اِس پر وہ اسی وقت آپ پر ایمان لے آیا (صحیح بخاری کتاب العلم باب ما جاء فی العلم و قولہ تعالیٰ و قل رب زدنی علما۔صحیح مسلم کتاب الایمان باب السوال عن ارکان الاسلام) گویا اور دلیلوں سے تو اُس کو تسلی نہ ہوئی لیکن جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قسم کھا لی تو اس کی تسلّی ہو گئی۔قرآن مجید میں ہر قسم کے لوگوں کے لئےدلائل تو جب ایک گروہ دنیا میں ایسا ہے جس کی قسم سے ہی تسلی ہو سکتی ہے تو اگر اللہ تعالیٰ کے کلام میں قسم موجود نہ ہوتی تو ایسا گروہ صداقت کے قبول کرنے سے محروم رہ جاتا اور کلام الٰہی پر یہ اعتراض عائد ہوتا کہ وہ دعویٰ تو یہ کر رہا ہے کہ تمام لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے نازل ہوا مگر ایک طبقہ کے جائز مطالبہ کو اس میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا اپنی صداقت کے لئے قسم کھانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی بعض ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ایک دفعہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور آکر کہنے لگا کیا آپ قسم کھا کر مجھے لکھ کر دے سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسیح موعود بنایا ہے؟ آپ نے فرمایا ایک ہفتہ کے بعد آنا۔جب وہ ہفتہ کے بعد آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُسے ایک تحریر لکھ کر دی جس کا مضمون یہ تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے یا اپنی تقریروں وغیرہ میں بیان کرتا ہوں یہ تمام علوم مجھے خدا نے عطا فرمائے ہیں اور خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان باتوں کو لوگوں کے سامنے پیش کروں اور اُسی کے حکم سے میں نے مسیح موعود اورمہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے(ایک ہفتہ بعدآنے کی شرط غالباً آپ نےاس لئے لگائی تا اس شخص کی سنجیدگی کا ثبوت مل جائے۔ورنہ بعض لوگ تماشہ کے طور پر سوال کر دیتے ہیں آپ نے ایک ہفتہ کے بعد آنے کی شرط لگا کر امتحان کر لیا کہ وُہ شخص سنجیدہ ہے اور وقت مقررہ پر پھر تکلیف اٹھا کر آیا ہے جب یہ امتحان ہو گیا تو آپ نے قسم تحریر فرما دی) تو ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو اور کسی دلیل کا متلاشی نہیں ہوتا۔وہ کہتا ہے اگر یہ بات سچ ہے تو پھر اس پر قسم کھا جائو۔اس قسم کی فطرت والوں کی اصلاح اور ہدایت کے لئے ضروری تھا کہ قرآن کریم میں قسمیں ہوتیں تا کہ یہ گروہ قبولِ ہدایت سے محروم نہ رہ جاتا۔