تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 121

ہی نہیں سکتا کیونکہ اُسے معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ آئندہ کیا کچھ ہونے والا ہے خدا تعالیٰ ہی ہے جو ان چیزوں کو شہادت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔اگر کہا جائے کہ قسم کی ضرورت ہی کیا ہے بہت سے لوگ قسم کو وقعت ہی نہیں دیتے اور وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی قسم کا کیا سوال ہے قسم تو بندے کو بھی نہیں کھانی چاہیے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب پادری آتھم کے مقابلہ میں یہ بات پیش کی کہ اگر پیشگوئی کی ہیبت اس کے دل پر طاری نہیں ہوئی تو وہ قسم کھا کر اعلان کر دے تو عیسائیوں نے یہی کہا کہ قسم کھانا کوئی اچھی بات نہیں ہم اس طریق فیصلہ کو قبول نہیں کر سکتے(ضیاء الحق روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۵۶۔۲۵۷)۔تو بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قسم کی کوئی قیمت ہی نہیں سمجھتے اور اس وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ الٰہی کلام میں بھی قسمیں نہیں آنی چاہئیں۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک بعض لوگ قسم کو وقعت نہیں دیتے مگر کسی کے وقعت نہ دینے سے کیا بنتا ہے۔سوال تو یہ ہے کہ قسم اپنی ذات میں وقعت رکھتی ہے یا نہیں؟ اگر رکھتی ہے تو بےشک بعض لوگ اُسے وقعت نہ دیں ان کی وجہ سے ایک سچائی کو چھوڑا نہیں جا سکتا اگر کوئی خدا ہے تو اُس کی جھوٹی قسم کھانا یقیناً سخت عذاب کا موجب ہونا چاہیے بشرطیکہ دنیا کو اُس سے کوئی بڑا نقصان پہنچتا ہو لغو قسم نہ ہو۔پس قسم اپنی ذات میں ایک بہت بڑا ثبوت ہے اور بعض کے نہ ماننے کی وجہ سے اُسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔دوسراؔ جواب یہ ہے کہ اگر بعض اُسے مفید نہیں سمجھتے تو بعض دُوسرے اُسے ایک اہم دلیل قرار دیتے ہیں۔بے شک کچھ حصّہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو کہتے ہیں کہ قسم ایک لغو اور فضول چیز ہے مگر کچھ حصہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جن کی قسم کھانے کے بغیر تسلّی ہی نہیں ہوتی۔جو کلام ساری دنیا کے لئے آئے گا اُس کے لئے ضروری ہو گا کہ اگر کسی ایک گروہ کا مطالبہ بھی جائز اور درست ہو تو اُس کو پورا کرے۔کیونکہ قرآن کریم صرف اُن لوگوں کے لئے نہیں جو قسم کو کوئی وقعت نہیں دیتے۔بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کاقسم کے بغیر اطمینان ہی نہیں ہوتا۔پس جہاں جہاں قسمیں نہیں کھائی گئیں اُس حصۂ قرآن سے وہ لوگ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو قسموں کو ضروری نہیں سمجھتے اور جہاں قسمیں کھائی گئی ہیں اُسی حصہ سے وہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو قسموں کو ضروری سمجھتے ہیں۔اگر صرف ایک گروہ کا مطالبہ پورا کر دیا جاتا اور دوسرے گروہ کا جائز مطالبہ ردّ کر دیا جاتا تو قرآن کریم سب لوگوں کے لئے نہیں ہو سکتا تھا۔پھر وہ ایک محدودطبقہ کے لئے رہ جاتا۔غرض چونکہ دنیا میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو قسموں پر اعتبار کرتا ہے بلکہ اسے ضروری سمجھتا ہے اس لئے قرآن کریم کا فرض تھا کہ وہ اور دلائل کے ساتھ اس دلیل کو بھی پیش کر دیتا اور اُس ثبوت کو ترک نہ کرتا جو ایک طبقہ کے اطمینان کے لئے ضروری تھا۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم