تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 119
یہ معنے نہیں ہوں گے کہ خدا تعالیٰ ان چیزوں کی گواہی کا محتاج تھا بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ اپنی صداقت کے لئے ان گواہیوں کا محتاج تھا جب ان چیزوں نے گواہی دے دی توثابت ہو گیا کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب کہا تھا کہ پہاڑ گواہی دیںگے یا دریا گواہی دیں گے تو انہوں نے یہ بات اپنی طرف نہیں کہی تھی بلکہ خد اکی طرف سے کہی تھی۔پس مخلوق نے خدا تعالیٰ کو سچا ثابت نہیں کیا بلکہ اُس انسان مدعی کو سچا ثابت کیا جو خدا تعالیٰ کی طرف ایک کلام منسوب کر رہا تھا۔اس سوال کا جواب کہ اگر قرآن مجید کی صداقت کے لئے حلف کی ضرورت تھی تو آنحضرت صلعم کو حلف اٹھانا چاہیے تھا نہ کہ خدا کو اگر کہا جائے کہ جب سوال صرف اُس انسان کی سچائی کا ہوتا ہے جو خدا کا کلام پیش کر رہا ہوتا ہے تو اُسے خود قسم کھانی چاہیے نہ کہ خدا تعالیٰ کو۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّلؔ وہ انسان بھی الگ قسم کھایا کرتا ہے لیکن چونکہ الٰہی کلام بھی مکمل ہوتا ہے اس لئے اُس کے اندر بھی حلف کا ثبوت جو دنیا میں اکثر لوگوں کے نزدیک سب سے کامل ہوتا ہے ہونا چاہیے تا اندرونی شہادت اس امر پر موجود ہو کہ وہ کلام مکمل ہے ورنہ وہ مکمل نہیں رہے گا۔اگر کلام الٰہی میں حلف موجود نہ ہو بلکہ نبی اپنے دعویٰ کی صداقت میں علیحدہ طور پر قسم کھائے تو اس کی حلف اوّل مستقل نہیں ہو گی جیسے حدیثوں میں اس قسم کی حلف کی کئی مثالیں موجود ہیں۔مگر حدیثوں کے متعلق لوگ شبہ کرتے ہیں کہ نہ معلوم وہ صحیح ہیں یا نہیں۔اُن کا یہ شبہ صحیح ہو یا غلط یہ الگ بحث ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں کو اس قسم کے شبہ کی گنجائش ہے اور ہم بھی دعویٰ سے نہیں کہہ سکتے کہ ہر حدیث صحیح ہے یاہر حدیث انہی الفاظ میں ہے جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمائے۔یقینی اور قطعی کلام جس کے ایک ایک لفظ پر ہم حلف اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور اسی طرح ہے جس طرح رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اسے بیان فرمایا وہ صرف قرآن کریم ہی ہے۔چنانچہ میور اور نولڈک جیسے دشمنانِ اسلام بھی یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ جس طرح محمد صلے اللہ علیہ وسلم نے بتایا اُسی طرح آج تک موجود ہے اُس میں ذرا بھی تغیّر و تبدّل نہیں ہوا(لائف آف محمد سر ولیم میورصفحہ ۵۶۲ ،۵۶۳ زیر عنوان sources for the biography of Mahomet انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Koran)۔پس اگر اس کلام میں قسم موجود ہو گی تو یہ اس بات کا ایک قطعی اور یقینی ثبوت ہو گا۔کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قسم کھائی ہے۔اگر اس کلام میں قسم موجود نہ ہوتی تو دوسری قسمیں جو حدیثوں وغیرہ میں آتی ہیں وہ اس قِسم کی قطعی اور یقینی نہیں ہو سکتی تھیں۔پس الٰہی کلام میں بھی حلف کا ثبوت موجود ہونا چاہیے تھا تا کہ یہ اندرونی شہادت دوسری شہادتوں کی تکمیل کرتی۔