تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 120
دوسرے کلام الٰہی میں کلام لانے والے کی حلف نہیں ہو سکتی بلکہ خدا تعالیٰ کی ہی ہو گی۔اگر نبی کی حلف ہو گی تو کلام اللہ میں انسانی کلام مل جائے گا۔مثلاًمحمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم یہ کہتے کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے اور یہ الفاظ قرآن کریم میں موجود ہوتے تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ کلام اللہ میں غیر کا کلام بھی شامل ہو گیا حالانکہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جو بسم اللہ کی باء سے لے کر والناس کے س تک تمام کا تمام خدا تعالیٰ کا کلام ہے یا اگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ اُس میں موجود ہوتا کہ اے لوگو سنو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تو اس صورت میں بھی انسانی کلام اللہ تعالیٰ کے کلام میں شامل ہو جاتا۔اور اگراللہ تعالیٰ کے کلام میں یہ آ جاتا کہ اے محمد صلے اللہ علیہ وسلم ہم تجھے کہتے ہیں کہ تواپنے دعویٰ کی صداقت کے متعلق لوگوں کے سامنے قسم کھا تب بھی شبہ کی گنجائش رہتی کہ نہ معلوم انہوں نے قسم کھائی ہے یا نہیں کھائی۔جیسے قرآن کریم میں کئی مقامات پر آتا ہے کہ قُلْ یعنی اے محمد صلے اللہ علیہ وسلم تُو لوگوں سے ایساکہہ دے۔اب گو ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام باتیں لوگوں سے کہہ دیں مگر پھر بھی لفظ قُلْ سے ایک دشمن کی نگاہ میں تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے کہہ بھی دیا تھا۔اسی طرح اگر قرآن کریم میں ہوتا اے محمد صلے اللہ علیہ وسلم تُو قسم کھا تو دشمن کہہ سکتے تھے کہ کیا معلوم انہوں نے قسم کھائی تھی یا نہیں بہرحال دونوں صورتوں میں قسم کی غرض فوت ہو جاتی۔اگر کلام الٰہی میں محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قسم آجاتی تو کلام الٰہی میں انسانی کلام مل جاتااور اگر خدا تعالیٰ اپنے کلام میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو قسم کھانے کی ہدایت فرماتا تو پھر بھی لوگوں کو یہ شبہ رہتا کہ نہ معلوم انہوں نے اس کے مطابق قسم کھائی تھی یا نہیں اور اگر الگ قسم کھا لیتے تب بھی کلام الٰہی اس زبردست ثبوت کی عدم موجودگی کی وجہ سے نامکمل رہتا۔دوسری بات یہ مدنظر رکھنی چاہیے کہ قرآ ن کریم نے جن امورپر قسم کھائی ہے یا جن امور کو اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے اُن میں سے کم سے کم ایک حصہ تو ضرور ایسے علوم سے تعلق رکھتا ہے جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علم اور قبضہ سے بالا تھے (میرے نزدیک سب قسمیں ہی ایسے امور پر مشتمل ہیں)اُن کو شہادت کے طور پر وہ پیش ہی کس طرح کر سکتے تھےانہیں تو خدا تعالیٰ جو علیم وخبیر ہے وہی پیش کر سکتا تھا اور اُسی نے پیش کیا۔پس یہ سوال کہ قسم اُس انسان کی کھانی چاہیے تھی جس پر خدا کا کلام نازل ہو رہا تھا نہ کہ خدا تعالیٰ کو۔بالکل غلط ہے۔محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو تو ان چیزوں کا علم ہی نہیں تھا اور نہ یہ چیزیں اُن کے قبضہ اور اختیار میں تھیں پھر وہ اُن کی قسم کس طرح کھا سکتے تھے۔پس قسمیں چونکہ علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتی ہیں اس لئے کوئی نبی وہ قسمیں کھا