تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 118

اسی طرح اگر خدا تعالیٰ کے کلام میں آجائے کہ فلاں بات کی صداقت پر دریا گواہی دیں گے تو ہم دیکھیں گے کہ دریا اُس بات کی صداقت میں اپنی گواہی پیش کرتے ہیں یا نہیں اگر وہ گواہی دے دیں گے تو ثابت ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے ہی وہ بات کہی تھی اور اگرو ہ گواہی نہیں دیں گے تو ثابت ہو جائے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں تھا بلکہ جھوٹے طور پر اُس کی طرف منسوب کیا گیا تھا کیونکہ کوئی انسان یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ کسی پہاڑ سے گواہی دلوا سکے یا کسی دریا کو گواہ بنا سکے۔یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور وہی طاقت رکھتا ہے کہ اُن سے گواہی لے کر دُنیا کے سامنے پیش کرے۔خدا تعالیٰ کی بات کے لئے مخلوق کے گواہی دینے کا مطلب اگر کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کی بات کو مخلوق کی گواہی سے کس طرح ثابت کیا جا سکتا ہے تو اس کا جوا ب وہی ہے جو اُوپربیا ن ہو چکا ہے کہ الٰہی کلام کے بارہ میں یہ سوال نہیں ہوا کرتا کہ آیا خدا تعالیٰ نے سچ کہا ہےیا نہیں بلکہ سوال یہ ہوا کرتا ہے جو بندہ اُس کلام کو پیش کر رہا ہے وہ خدا تعالیٰ پر سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔پس یہ بحث ہی نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ سچ کہہ رہا ہے یا نہیں۔بلکہ بحث یہ ہوا کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا نمائندہ ہو نے کا مدعی انسان جو کچھ کہہ رہا ہے وہ سچ ہے یا نہیں۔پس وہ دلیل جو مخلوق کی شہادت کی خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش کی جائے گی وہ اس امر کو ثابت کر دے گی کہ مدعی جو کچھ کہہ رہا تھا سچ کہہ رہا تھا اور اُس کا پیش کردہ کلام فی الواقعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اس لئے وہ شخص سچا ہے پس مخلوق نے خدا تعالیٰ کو سچا ثابت نہیں کیا بلکہ اُس انسان مدعی کو سچا ثابت کیا جو خدا تعالیٰ کی طرف ایک کلام منسوب کر رہا تھا جب کسی پیشگوئی کے مطابق دریا گواہی دینے لگ جائیں یا پہاڑ گواہی دینے لگ جائیں یاسورج اور چاند گواہی دینے لگ جائیں اور فرض کرو کہ ان پیشگوئیوں کا ذکر کرشن کے کلام میں آتا ہو تو دریائوں اور پہاڑوں اور سورج اور چاند کی گواہی اس بات کو ثابت نہیں کرے گی کہ خدا تعالیٰ سچا ہے بلکہ اس بات کو ثابت کرے گی کہ کرشن جی نے جھوٹ نہیں بولا بلکہ اُس نے خدا تعالیٰ کی طرف جس کلام کو منسوب کیا تھا وہ خدا تعالیٰ کا ہی کلام تھا یا اگر حضرت ابراہیم ؑکی صداقت میں پہاڑ اور دریا گواہی دینے لگ جائیں تواس کا یہ نتیجہ نہیں نکالا جائے گاکہ چونکہ ان چیزوں نے گواہی دیدی ہے اِس لئے خدا تعالیٰ سچا ہے بلکہ نتیجہ یہ نکلے گا کہ ابراہیم ؑسچ کہہ رہا تھاکہ اُسے خدا تعالیٰ نے یہ یہ باتیں کہی ہیں یا جب حضرت موسیٰ ؑ کی پیشگوئی میں ذکر آ جائے کہ پہاڑ اور دریا گواہی دیں گے اور وہ واقعہ میں گواہی دے دیں تو اُن کی گواہی سے یہ ثابت نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ سچا ہے بلکہ یہ ثابت ہو گا کہ موسیٰ ؑ نے اپنے خدا پر جھوٹ نہیں بولا بلکہ جو کچھ کہا سچ کہا۔یا اگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تائید میں پہاڑ اور دریا اور دنیا کی اور چیزیں گواہی دینے لگ جائیں تو اس کے