تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 103

ہے۔نَزَعَ کے کئی مصدر آتے ہیں اس لئے جب نَزَعَ کا مصدر نَزْعًا ہو تو اُس وقت نَزَعَ الشَّیْئَ عَنْ مَکَانِہٖ کے معنے ہوتے ہیں قَلَعَہٗ کسی چیز کو جڑ سے اکھیڑدیا۔اور جب نَزَعَ الْاَمِیْرُ الْعَامِلَ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں عَزَلَہٗ۔امیر نے عامل کو معزول کر دیا۔نیز کہتے ہیں نَزَعَ بِالسَّھْمِ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ رَمٰی بِہٖ اُس نے تیر پھینکا۔اسی طرح کہتے ہیں نَزَعَ فِیْ الْقَوْسِ اَیْ مَدَّھَا اَیْ جَزَبَ وَتْرَھَا یعنی اُس نے کمان کا چلّہ خُوب زور سے کھینچا۔اور نَزَعَ عَنِ الْقَوْسِ کے معنے ہوتے ہیں رَمٰی عَنْھَا کمان سے تیر کو پھینکا یعنی تیر اندازی کی۔اور نَزَعَ الدَّلْوَ کے معنے ہوتے ہیں جَذَبَھَا وَاسْتَقٰی بِھَا کنوئیں سے ڈول کے ذریعہ پانی کھینچا اور لوگوں کو پلایا اور جب نَزَعَ کا لفظ مریض کے لئے استعمال کریں اور نَزَعَ الْمَرِیْضُ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَشْرَفَ عَلَی الْمَوْتِ۔مریض موت کے قریب پہنچ گیا۔چنانچہ اُردو میں بھی کہتے ہیں فلاں شخص کا تو اب نَزْع کا وقت ہے۔اور جب نَزَعَ کا مصدر نُزُوْعًا ہوتو نَزَعَ عَنْ کَذَا کے معنے ہوتے ہیں کَفَّ وَانْتَھٰی عَنْہُ وہ کوئی کام کرنے سے رُک گیا اور باز آگیا۔اِسی مصدر میں جب کہیں گے نَزَعَ الْوَلَدُ اَبَاہُ یا نَزَعَ الْوَلَدُ اِلٰی اُمِّہٖ تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَشْبَہٗ بیٹا اپنے باپ یا اپنی ماں کے مشابہ ہو گیا۔اور جب نَزَعَ کا نَزَاعَۃً وَنِزَاعًا وَنُزُوْعًا مصدر ہو تو نَزَعَ اِلَی الشَّیءِ کے معنے ہوں گے اِشْتَھَاہُ اُس نے فلاں چیز کی خواہش کی اور جب کہیں نَزَعَ اَلٰی اَھْلہٖ تو اس کے معنے ہوتے ہیں اِشْتَاقَ اس کے دل میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔یا انگریزی محاورہ کے مطابق کہیں گے فلاں شخص ہوم سِک HOME SICK ہو گیا۔اسی مصدر کے ماتحت جب نَزَعَ بِفُلَانٍ اِلٰی کَذَا کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں دَعَاہُ اِلَیْہِ اُس نے کسی آدمی کو کسی کام کی دعوت دی۔(اقرب) نَازِعَات کےبعد غَرْقًا کا لفظ آتا ہے اس کے متعلق بھی یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اُردو میں غرق کالفظ جو ڈوبنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے عربی زبان میں اُس کا مصدر غَرْقًا نہیں بلکہ غَرَقًا استعمال ہوتا ہے کہتے ہیںغَرقَ غَرَقًا مگر یہاں غَرْقًا اَغْرَقَ ثلاثی مزید کا مصدر استعمال ہوا ہے۔گویا غَرْقًا بمعنے اِغْرَاقًا استعمال ہوا ہے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے پہلے پارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ (البقرۃ:۷۵) کہ پتھروں میں سے بعض ایسے ہیں جو خشیۃ اللہ سے گر جاتےہیں۔یہاں سب تسلیم کرتے ہیں کہ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ کے الفاظ مِنْ اِخْشَائِ اللّٰہِ کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔یعنی ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈرانے کی وجہ سے۔اسی طرح یہاں غَرْقًا قائمقام اِغْرَاقٌ کا ہے جو اَغْرَقَ کا مصدر ہے۔اور اَغْرَقَ فِی الْمَائِ کے معنے ہوتے ہیں غَرَّقَہٗ اُس کو پانی میں ڈبو دیا۔اور جب کہیں اَغْرَقَ الْکَأْسَ تو اس کے معنے ہوتے ہیں مَلَأَ ھَا اُس کو بھر دیا۔اور جب کہیں