تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 104

اَغْرَقَ النَّازِعُ فِیْ الْقَوْسِ تو اس کے معنے ہوتے ہیں مَدَّھَا اُس کو خوب کھینچا اور جب کہیں کہ اَغْرَقَ النَّبْلَ تو اس کے معنے ہوتے ہیں اِذَابَلَغَ بِہٖ غَایَۃَ الْحَدِّ فِی الْقَوْسِ یعنی اُس نے تیر کو اتنے زور سے کھینچا کہ اُس کی نوک کمان کے ڈنڈے سے آملی۔اور جب کہیں اَغْرَقَ فُلَانٌ فِی الشَّیْءِ تو اس کے معنے ہوتے ہیں بَالَغَ فِیْہِ وَاَطْنَبَ اُس نے کام کو حد تک پہنچا دیااور اُس میں اطناب اور طوالت سے کام لیا۔مثلاً کوئی شخص بات شروع کرے اور وہ لمبی گفتگو کرتا چلا جائے تو اُس موقع پر یہ فقرہ استعمال کریں گے۔اسی طرح جب کہیں اَغْرَقَ النَّاسُ فُلَانًا تواس کے معنے ہوتے ہیں کَثُرُوْا عَلَیْہِ فَغَلَبُوْہُ (اقرب) لوگوں نے جمع ہو کر اُس پر حملہ کر دیا اور اُسے مغلوب کر لیا۔وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاکے نو لغوی معنی گویاوَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا کے معنے ہو جائیں گے کہ (۱) کسی چیز کو اس کی جڑ سے خوب اچھی طرح اُکھیڑنے والی ہستیاں (۲) یا وہ گروہ جو اپنے کام کو اُس کی پوری انتہاء تک پہنچا دیتے ہیں (۳) یا حکامِ وقت کو معزول کر دینے والے گروہ جو اپنی تدبیر کو کمال تک پہنچا دیتے ہیں (۴)یا تیروں کو کھینچنے والی جماعتیں جو لڑائی میں تیروں کو اس قدر زور اور جوش سے کھینچتی ہیں کہ تیر کمانوں کی لکڑی تک پہنچ جاتے ہیں (۵) یا وہ جماعتیں جو کنوئوں میں سے پانی نکال نکال کر پانی پلاتی ہیں اور پورے زور سے پانی کھینچتی ہیں۔(۶) یا وہ جماعتیں جو بعض کاموں سے پوری طرح رُک جاتی ہیں (۷) وہ جماعتیں جو اپنی روحانی یا جسمانی باپوں سے انتہائی طور پر مشابہت اختیا رکر لیتی ہیں (۸) یا وہ جماعتیں جن کے دلوں میں اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کی زبردست خواہش ہوتی ہے (۹)یا وہ جماعتیں جولوگوں کو کسی کام کی نہایت ہی جوش وخروش سے دعوت دیتی ہے۔تفسیر۔النّٰزِعٰتِ سے پہلے واؤ قسم کی ہے اَلنَّازِعَات کے شروع میں جو وائو آتا ہے یہ قسم کا ہے اور بعد کے وائو عطف کے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم قسم کھاتے ہیں نَازِعَاتِ کی جو غرق ہو کر نزع کرتی ہیں۔عربی زبان میں قسم کے لئے وائوؔ۔با۔ؔ تا۔ؔ تین حروف آتے ہیں۔اِن میں سے وائو کا زیادہ استعمال ہوتا ہے لیکن عربی زبان میں اصل حرفِ قسم با کوؔسمجھا جاتا ہے۔چنانچہ کہا جاتا ہے اُقْسِمُ بِاللّٰہِ یعنی اُقْسِمُ کے ساتھ باء کو بھی ظاہر کر دیا جاتا ہے مگر یہ کبھی نہیں کہا جاتا کہ اُقْسِمُ وَاللّٰہِ یا اُقْسِمُ تَاللّٰہِ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم کیلئے اصل حرف باء ہے۔لیکن کبھی باء کے بدلہ میں وائو بھی آجاتی ہے اور وائو کے بدلہ میں تاء آجاتی ہے گویا وائو اور تاء یہ دونوں باء کے تابع ہیں۔قرآن مجید میں تمام اقسام جو شہادت کے رنگ میں آتی ہیں ان سے پہلے وائو استعمال ہوا ہے باء یا تاء استعمال نہیں ہوئے۔اس سے قیاس ہوتا ہے کہ وائو کا حرف ایسی قَسمِ شہادت کے لئے جو اپنے سے ادنیٰ ہستی کی کھائی جائے زیادہ مناسب ہے۔چنانچہ آیت زیرِ بحث میں بھی وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا آتا ہے نہ کہ تَالنَّازِعَاتِ۔