تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 93
کردیں۔چنانچہ ان دس قبائل کے آدمیوں نے وہیں ڈیوڑھی میں کھڑے ہوکر اپنا ایک بادشاہ چن لیا اور سلیمانؑ کے بیٹے سے کہہ دیا کہ ہم تمہاری حکومت سے بغاوت کرتے ہیں۔چنانچہ ان کی بادشاہت سینکڑوں سال تک چلتی رہی اور سلیمانؑ کے بیٹے کی حکومت صرف ایک ریاست بن کر رہ گئی(اخبار الأیام الثانی ۹:۳۱،۱۰:۱۔۱۹،۱۱:۵۔۱۲)۔اسی طرح وہ لوگ جو ڈنڈے کے زور پر دوسروں پر حکومت کرتے ہیں اوراپنے آپ کو اعزّہ میں سے سمجھتے ہیں ان کی چیرہ دستیاں بھی جب حدسے تجاوز کرجاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اورملک میں ایسا انقلاب پیداہو جاتا ہے کہ ملک میں بڑے بڑے معززسمجھے جانے والے ذلیل ہوجاتے ہیں اورانہیں اپنے نارواافعال کی سزابھگتنی پڑتی ہے۔پھر گو ملکہ سبا کایہ قول ایک سیاسی ذکر کے دوران بیان کیاگیاہے کہ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً مگر اس میں اس روحانی قانون کی طرف بھی اشارہ کیاگیاہے جوانبیاء کی بعثت پردنیا میں جاری کیا جاتا ہے۔کیونکہ جس طرح دنیوی ملوک اپنے ساتھ ایک انقلاب لاتے ہیں اسی طرح انبیاء جومملکت روحانی کے بادشاہ ہوتے ہیں ان کی آمد کے ساتھ بھی جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةًً کانقشہ انسانی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔اوران کے زمانہ میںبھی کئی چھوٹے بڑے اور کئی بڑے چھوٹے کردیئے جاتے ہیں۔کئی حقیر اور ذلیل سمجھی جانے والی قومیں خدا تعالیٰ کے مامور کو قبول کرکے عزت حاصل کرلیتی ہیں۔اور کئی معززسمجھی جانے والی قومیں خدا تعالیٰ کے مامورکو ردّ کرکے ذلیل ہوجاتی ہیں۔بلکہ دنیا کا ایک لمباتجربہ ا س بات پر شاہد ہے کہ الٰہی صداقتیں ہمیشہ ایسے علاقوں میں ہی زیادہ کثرت اورزیادہ زور کے ساتھ پھیلتی ہیں جوباقی دنیا کی نگاہوں میں جاہل اور وحشی ہوتے ہیں۔جب کبھی کسی تعلیم نے یکدم کسی قوم کو پکڑاہے تو و ہ قوم ہمیشہ ایسی ہی ہوتی رہی ہے جواپنے ظاہری علوم کے لحاظ سے دوسری قوموں سے ادنیٰ اورگری ہوئی سمجھی جاتی ہے۔مگرپھر وہی قوم خدا تعالیٰ کی آواز پرلبیک کہہ کر دنیا کی فاتح اور حکمران بن جاتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی جاہل کیوں نہ ہوانسانی فطرت اپنے ذہن میں کچھ نہ کچھ نتائج نکالتی رہتی ہے بلکہ انسان تو ایک طرف رہا ہم جانوروں او ردرختوں میں بھی یہ بات دیکھتے ہیں۔سائینس سے ثابت ہے کہ بعض جانور بعض درختوںپر رہنے کی وجہ سے خاص قسم کے رنگ پیداکرلیتے ہیں۔تیتری کتنا چھوٹا ساجانور ہے نہ اس میں گوشت ہوتاہے نہ ہڈی۔جب تیتریاں پھولوںپر اُڑ رہی ہوتی ہیں تووہ کتنی خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔کتنی حسین اور دلکش نظر آتی ہیں۔مگراس سے کون انکا رکرسکتاہے کہ ان تیتریوںکا رنگ زیادہ ترمرہون منت ہوتاہے ان پھولوں او رپتوںکا جن میں وہ رہتی ہیں۔وہ مختلف قسم کے پھولوں اور مختلف قسم