تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 94

کے پتوں میں رہتی ہیں اورانہی پتوںاور انہی پھولوں کے رنگ کاانعکاس اپنے پَروں میں پیداکرلیتی ہیں۔چنانچہ اکثر تیتریوں کے رنگ دوسرے جانور وں کے رنگ کے خلاف عارضی ہوتے ہیں۔اگرایک طوطے کا سبز رنگ تم مٹاناچاہوتو تم نہیں مٹاسکتے۔اگرایک فاختہ کابھورارنگ تم مٹاناچاہوتونہیں مٹاسکتے۔لیکن تیتری کاپَر اپنے ہاتھ میں مسلوتو اس کارنگ فوراً تمہارے ہاتھ کولگ جائے گا۔جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس کارنگ درحقیقت ایک فوٹو اور انعکاس ہوتاہے ان شعاعوں کاجو ان پھولوں اور پتوں میں رہنے کی وجہ سے اس کے پَروں پرپڑتی ہیں۔جب یہ انعکاس ایک لمبے عرصہ تک چلتاچلاجاتاہے تواسی قسم کا ایک مستقل رنگ پیداہو جاتا ہے۔چنانچہ بالعموم ریت کے اندر رہنے والے جانور بھوسلارنگ اختیار کرلیتے ہیں۔اورریت کے تودوںمیں ان کی شکل نظر نہیں آتی۔ہرن سامنے بیٹھا ہواہوتاہے بلکہ گلّے کا گلّابعض دفعہ سامنے ہوتاہے مگرہرشخص ان کو پہچان نہیں سکتا۔صرف ماہرشکاری ہی امتیاز کرسکتاہے۔ورنہ عام انسان بسا اوقات پاس سے گذر جاتاہے اوراسے معلوم تک نہیں ہوتاکہ سامنے ہرن بیٹھا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ریت میں ایک لمباعرصہ رہنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ وہ ریت کا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔یہی حال درختوںکاہوتاہے کہ درخت بھی اپنے اپنےماحول کے مطابق رنگ اختیار کرتے ہیں اوریہی حال انسانوں کاہوتاہے۔کہ وہ بھی اپنے اپنے ماحول کے مطابق رنگ اختیار کرتے ہیں۔ہم ان کو وحشی کہہ دیں۔ہم ان کو جاہل کہہ دیں۔ہم ان کو تہذیب و تمدن سے کوسوں دور کہہ لیں۔لیکن کیا ان کا دما غ اتنا بھی کام نہیں کررہاہوتا جتنا ایک طوطے یاایک تیتر یاایک ہرن کادماغ کام کررہاہوتاہے۔اگرکچھ کہا جاسکتاہے تویہ کہ جس طرح طوطے اورہرن نے معین صورت میں اپنے تاثرات کو باہر نہیں نکالااسی طرح ایک جاہل اوروحشی نے بھی اپنے ماحول کے تاثرات کو باہر نہیں نکالا۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوتاہے اور اس کے مطابق ایک رنگ اپنے اند ر پیداکرتارہتاہے۔تم اگر کسی وحشی سے پوچھو کہ کیا تم نے اپنی زندگی کے ماحول کے نتیجہ میں کوئی اثر قبول کیاہے یانہیں تووہ کہے گا۔میں نے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے اثر قبول کیاہوتاہے۔مگروہ اس سے ایسا ہی ناواقف ہوتاہے جیسے تیتری یہ نہیں جانتی کہ و ہ پھولوں کے رنگ کا اثر قبول کررہی ہے۔ہرن یہ نہیں جانتاکہ و ہ ریت کی رنگت اپنے اندر پیداکررہاہے۔جس طرح شہد کی مکھی بغیراس بات کے جاننے کے کہ وہ کیاپیداکررہی ہے۔اوراس کے کیاکیا فوائد ہیں۔مختلف پھولوں پر بیٹھ کر شہد کے باریک ذرات اپنے منہ میںسے نکالتی رہتی ہے اوروہ نکالنے پر مجبور ہوتی ہے اسی طرح وہ قومیں جنہیں دنیا نے الگ پھینک رکھا ہے۔اپنے ماحول کے اثرات سے متاثر ہورہی ہوتی ہیں گووہ خود بھی نہ سمجھ سکیں کہ ان کاماحول ان کوکسی خاص رنگ میں رنگین کررہاہے۔