تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 92

گویا جوقومیں جوتوں کے ساتھ دوسروںکو سیدھا کرناچاہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو مغلوب کردیتاہے اوردوسروں کو ان پر غلبہ دے دیتاہے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت سلیمان علیہ السلام کابیٹا جب آپ کی وفات کے بعد تخت نشین ہواتو اس نے رعایا کے ساتھ شریفانہ سلوک روانہ رکھا۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ بنی اسرائیل کے دس قبائل نے بغاوت کر دی اور سلیمانؑ کی وسیع سلطنت ایک ریاست کی شکل میں محدود ہوکررہ گئی۔رعایاکے چند قبائل نے اس سے پیشتر بھی ایک دفعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت میں منصوبہ کیاتھا کہ ہم حکومت کو موقعہ پاکر کمزورکردیں۔اوربغاوت کردیں۔مگرحضرت سلیمان علیہ السلام نے تائید الٰہی سے اس قسم کی بغاوتوںکو دبائے رکھا۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام کابیٹا تخت نشین ہواتوبارہ قبائل میں سے د س نے اکٹھے ہوکر مشورہ کیا کہ چلو بادشاہ کے پاس چل کر درخواست کریں کہ آئندہ ہم پرسختی نہ کی جائے انہوں نے سمجھا کہ ا س طرح اکٹھے ہوکرجانے سے بادشاہ مرعوب ہوجائے گا اور ہم اس سے بعض باتیں منوالیں گے اگر تووہ لوگ حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے پاس جاتے اور اپنی شکایات پیش کرتے توچاہے آپ ان کی کوئی بات مانتے یا نہ مانتے اتنا ضرور تھا کہ آپ ان قبائل کا اعزاز کرتے اورانہیں احسن طریق سے سمجھانے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ ہم جوکچھ کررہے ہیں تمہارے فائدہ کے لئے کررہے ہیں۔مگرآپ کی وفات کے بعد آپ کابیٹا چونکہ مؤید من اللہ نہیں تھا۔اور اس کے اند رتقویٰ نہیں پایاجاتاتھا اس نے جب قبائل کے اس قسم کے مشور ہ کی خبر سنی تووہ آگ بگولہ ہوگیا اوراس نے امراء،وزراء اور دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ کیاکرناچاہیے۔وہ وزراء اور امرا ء بھی بادشاہ کے ہم خیال تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ ’’ گُربہ کُشتن روزِ اول ‘‘جب وہ قبائل آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کی خوب خبرلیں۔چنانچہ جب وہ قبائل بادشاہ کے پاس آئے توانہوں نے کہا۔بادشاہ سلامت !ہم نے آپ کے باپ داداکی بھی خدمت کی ہے اوراطاعت گذاررہے ہیں مگراس وقت بعض معاملات ایسے ہیں جن میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پرسختی کی جارہی ہے۔ان میں نرمی ہونی چاہیے۔یہ سن کر بادشاہ بڑی شان سے بیٹھ گیا۔اوراس نے بڑے جوش میں کہا تم نے اگر میرے باپ داداکی اطاعت اور فرمانبرداری کی تھی توکونسااحسان کیاتھا۔انہوں نے تم سے جوتوں کے ساتھ اطاعت کروائی تھی۔اسی طرح میں بھی تمہارے شوروشر سے ڈرنے والانہیں۔بلکہ یاد رکھو میرے باپ دادانے توتم سے جوتوں سے اطاعت کروائی تھی اور میں ڈنڈے مارمار کر تم سے اطاعت کروائوں گا۔اس لئے مطالبات کو ترک کردو۔اگرتم میں سے کوئی ذرابھی بولاتو گُدّی سے اس کی زبان کھینچ لی جائے گی۔وہ یہ سختی کا جواب سن کر سخت برہم ہوئے اورانہوں نے وہیں قصر شاہی کی ڈیوڑھی میں کھڑے ہوکر آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہمارے لئے سوائے اس کے اورکوئی چارہ نہیں کہ ہم بغاوت