تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 90

کے صحابہؓ کو سخت سے سخت تکالیف پہنچاتے رہے تھے آ پ نے ان سب سے کہہ دیا کہ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ جائو میں تم پر کوئی گرفت نہیں کرتا۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عفو و درگذر یہیں تک محدود نہیں بلکہ آپؐ نے ایک دفعہ صحابہؓ سے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ پر مصر کو فتح کرے گا۔جب تم فاتحانہ حیثیت سے اس میں داخل ہوتواس وقت تم اس بات کو یاد رکھنا کہ تمہاری دادی ہاجرہؓ مصر کی تھی (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام سیاقۃ النسب من ولد اسمعیل)۔اب کہاںحضرت ہاجرہؓ کا زمانہ اور کہاں صحابہؓ کا زمانہ مگراتنی دوری کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیس سوسال پہلے کی دادی ہاجرہ ؓ کا ذکرکرکے اپنے صحابہ ؓ کو نصیحت فرمائی کہ تم اس تعلق کی بناپر مصر کے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔اوران سے حسن سلوک کرنا۔پس اس قسم کا نمونہ دکھانا انبیاء کاہی کام ہوتاہے۔ورنہ عام دستور دنیا کے بادشاہوں کا یہی ہے کہ جب وہ کسی ملک میں فاتح بن کر داخل ہوتے ہیں توبڑے بڑے ظلم کرتے اور ہزاروں لوگوں کو بے دریغ قتل کردیتے ہیں۔پس ملکہ سبا کو جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط ملاتو اس نے اپنی سلطنت کے اکابر سے مشورہ لیا۔ان سب نے کہا کہ ہم ملک کی خدمت کے لئے تیار ہیں اورلڑنے مرنے پر آمادہ ہیں۔آپ جو حکم دینا چاہتی ہیں۔دیں۔اس نے جواب دیا کہ ہماری موت سے ملک کو کیا فائدہ پہنچے گا۔دیکھنا صرف یہ نہیں کہ لوگ جنگ کے لئے آماد ہ ہیں یا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ ہماری موت کو ئی فائدہ پہنچائے گی یانہیں۔اگر ہم زندہ رہیں اور سلیمانؑ کی بادشاہت قبول کرلیں تویہ زیادہ مفید ہوگا یایہ زیادہ مفید ہوگا کہ ہم لڑیں اور مر جائیں او ر سلیمان ہمارے ملک پر قابض ہوجائے۔غرض حکومت کاکلّی تغیّر ہم پر اثر انداز ہو سکتا ہے یااس کاجزوی تغیر۔ایک تغیّرتویہ ہے کہ سلیمانؑ کو اس ملک کی عظمت اور بڑائی حاصل ہوجائے۔بادشاہت ہمارے پاس ہی رہے ہم صرف اس کے باجگذار ہو جائیں۔اورایک تغیّر یہ ہے کہ ہم مارے جائیں اور ملک بھی سلیمانؑ کے قبضہ میں چلاجائے۔ان تما م امور پر غور کرکے وہ جوکچھ کہتی ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی ملک میں کوئی نئی بادشاہت آیا کرتی ہے تو جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً وہ ا س ملک کے معززین کو ذلیل کردیاکرتی ہے۔اس کے یہ معنے نہیں جیساکہ عام طورپر لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتوں میںجب تغیرہوتونئی حکومت بڑوںکو چھوٹااورچھوٹوںکوبڑاکردیتی ہے۔یہاں یہ مضمون بیان نہیں ہوا۔کیونکہ اگر اس کے یہی معنے ہوں توگوبڑے چھوٹے ہوجائیں گے لیکن چھوٹوں کے بڑابن جانے سے پھر بھی اس ملک کو ہی فائدہ پہنچے گا اور اسے کوئی نقصان نہیں رہے گا۔حالانکہ قرآن کریم کی آیت صرف نقصان اور تباہی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔دراصل اس آیت میں غیر قوم کی حکومت کا ذکر ہے۔اوربتایاگیاہے کہ جب اس قسم کی نئی بادشاہت کا قیام عمل میں آئے تووہ