تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 89

انگریزوں نے جو جو کارروائیاں کی ہیں ان کا ذکر سن کر انسان کانپ اٹھتاہے۔اس وقت کے کئی چشمدید واقعات کا ذکر میں نے بھی سناہے۔ہمارے اپنے پڑناناکاحال ہماری نانی صاحبہ سنایاکرتی تھیں کہ غدر کے دنوں میں وہ سخت بیمار تھے۔ایک دن اچانک انگریزی فوج کے بعض سپاہی مکان کے اندر گھس آئے اوران میں سے ایک نے ان کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کوبھی میں نے لڑتے دیکھا ہے۔وہ بیچارے گھبراکر کھڑے ہوئے توان سپاہیوں نے وہیں گولیوں سے ان کو مار ڈالا۔ملکہ سباء اسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً۔یعنی دستور اورقانون یہی ہے کہ جب کسی ملک میں نئے بادشاہ آتے ہیں تومعززلوگوںکو ذلیل کر دیا کرتے ہیں۔یہ خدائی قانون ہے جو کبھی نہیں بدل سکتا۔سوائے اس کے کہ داخل ہونے والادنیوی اصطلاح میں مَلِک نہ ہو۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاآپ کے خلفاء تھے۔وہ روحانی بادشاہ تھے دنیوی اصطلاح میں مَلک نہیں تھے۔اسی طرح دوچار اورلوگ جنہیں بطور استثناء پیش کیا جاسکتاہے۔وہ گوبادشاہ کہلاتے ہوں مگر ان معنوں میں بادشاہ نہیں تھے جن معنوں میںدنیا دار باد شاہ ہوتے ہیں بلکہ درحقیقت وہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے تھے۔چنانچہ ساری یورپین تاریخ میں صرف ایک مثال ایسی نظرآتی ہے جس میں فاتح نے غیر قوموں کے مقابلہ میں نہیں بلکہ اپنی قوم کے ہی ایک حصہ کے مقابلہ میں عفواوردرگذر کا سلو ک کیا۔یہ مثال ابراھیم لنکن کی ہے۔جو امریکہ کا پریزیڈنٹ تھا۔اس کے عہد حکومت میں ایک دفعہ یونائٹڈ سٹیٹس امریکہ کے ایک حصے نے دوسرے حصے کے خلاف بغاوت کردی۔جب شمالی یونائٹڈسٹیٹس نے جنوبی یونائٹڈ سٹیٹس پر فتح پالی اور وہ ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہونے لگاتو جرنیلوںنے فتح کا مظاہر ہ کرنے کی بہت بڑی تیاری کی ہوئی تھی اوران کی تجویز تھی کہ بینڈ بجاتے ہوئے ہم شہر میں داخل ہوں گے۔مگر جب ابراھیم لنکن نے ان انتظامات کو دیکھا تو اس نے اپنے جرنیلوں کو ڈانٹ دیا اورکہا کہ کیا یہ خوشی کا مقام ہے کہ امریکنوں نے امریکنوں کو قتل کیا ہے۔لڑائی توہمیں مجبوراً کرنی پڑی تھی ورنہ اپنی قوم کا خون بہاناکوئی پسندیدہ بات نہیں ہوسکتی۔پھر اس نے اپنے جرنیلوں سے کہا کہ تم پیچھے کھڑے رہو میں اکیلا شہر میں داخل ہوں گا۔چنانچہ وہ اکیلا شہر میں داخل ہوااور باغی فوج کے افسر کے دفتر میں جاکر اس کے ڈیسک پر سر جھکا کر بیٹھ گیااورتھوڑی دیر پُر نم آنکھوں کےساتھ دعا میں مشغول ر ہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔یہ تما م یو روپین تاریخ میں صرف ایک مثال ہے۔جہاں فاتح نے مفتوح کو ذلیل کرنے کی کو شش نہیں کی لیکن محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تواس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔آپؐ نے جب مکہ فتح کیا توباوجود اس کے کہ کفار مکہ سال ہا سال تک آپؐ کو اورآپؐ