تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 91
بڑوںکو ذلیل کردیتی ہے اورجو پہلے ہی ذلیل ہوں وہ اس حکومت میں اَور بھی زیادہ ذلیل اور بے حیثیت ہوجاتے ہیں۔گویا خارجی قوم کی حکومت نئے حاکم مقررکرتی۔نئے سردا ربناتی اور نیانظام قائم کرتی ہے۔پھر وہ لوگ اپنا قانون جاری کرتے۔اپنے افسروں اوراپنے حکّام کاتقرر کرتے اور اپنے ہی نظام کو رائج کرتے ہیں۔جیسے انگریز یہاں آئے توانہوں نے انگریزوں کو افسر بنایا۔مغل آئے توانہوں نے اپنے ساتھیوں کو ترقی دی۔پٹھان آئے توانہوں نے اپنے ہم قوم افراد کو ذمہ واری کے عہدے دیئے۔اسی طرح آرین لوگوں نے حکومت کی تو انہوں نے آریوں کوعرو ج پرپہنچایا اورگونڈ اور بھیل وغیرہ اقوام جو کسی زمانہ میں اعزّہ میں سے تھیں انہیں ذلیل کردیا۔غرض ہرخارجی بادشاہت دنیا میں ایک نیا تغیر پیداکرتی اور پہلے نظام کو بدل کر ایک نیا نظام قائم کرتی ہے تاکہ وہ لوگ دوبارہ اقتدار حاصل کرکے بغاوت نہ کردیں۔مجھے یا دہے ایک دفعہ دِلّی میں مجھے ایک شخص کے متعلق بتایاگیا کہ یہ مغلیہ خاندان میں سے ہے۔اس کاکام صرف اتنا تھا کہ وہ حقہ اٹھائے پھرتاتھا اورچاندنی چوک میں او رلال قلعہ کے سامنے لوگوں کو حقہ پلاتاتھا۔اورحقہ پینے والا اسے آنہ دوآنے دیدیتاتھا۔وہ ہرشخص کے سامنے جاتا او رکہتاحقہ پی لیجئے۔و ہ لو گ جو حقہ کے عادی ہوتے و ہ اس سے حقہ لے کر پی لیتے اور جاتے ہوئے آنہ دوآنے دے دیتے۔اس نے عزت نفس کی وجہ سے بجائے ہاتھ پھیلانے کے یہ طریق اختیار کرلیاتھا۔پس دنیا کے واقعات اس قانون کی تائید کرتے ہیں کہ جب بھی کسی ملک کی حکومت پر کوئی اورحکومت قبضہ کرتی ہے وہ ملک کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیاکرتی ہے اورحکمران خاندان کو کلّی طورپر حکومت کے کاموں سے علیحدہ کرکے گوشئہ گمنامی میں پھینک دیتی ہے اور ایسے لوگوںکو حکومت کی باگ ڈور دےدی جاتی ہے جو پہلی حکومت سے بغض رکھتے ہوں تاکہ وہ ان لوگوں کو اُبھرنے کاموقعہ نہ دیں۔انگریزوں کو ہی دیکھ لو۔انہوں نے راجوں مہاراجوں کو اونچا کردیا اورمغلیہ شاہی خاندان کو اس طرح گرادیا کہ آج ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔غرض ملکہ سبابطورقانون یہ بات بیان کرتی ہے کہ بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تووہ اس کو تباہ و برباد کردیتے ہیں اوروہاں کے معزز لوگوںکو ذلیل کردیاکرتے ہیں۔پھر جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً میں اعزّۃ کے صرف یہی معنے نہیں کہ جو لوگ واقعی معززہوتے ہیں ان کوذلیل کیا جاتا ہے بلکہ اس کا ایک او رمطلب یہ بھی ہے کہ جولوگ غریبوں ،کمزوروں اورناتوانوں کو جوتیاں مارنے کی وجہ سے اپنے آپ کو معززسمجھتے ہیں ان کے اس فعل بد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی غیرت او راس کی محبت غرباء کے لئے جو ش میں آتی ہے اور وہ ان پر کسی ایسے بادشاہ کو مسلط کردیتاہے جوان کے خود ساختہ اعزاز کو مٹاکر انہیں ذلیل کردیتاہے۔