تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 88
ملکہ سبانے کہا کہ جب بادشاہ کسی زبردست لشکر کے ساتھ ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اس کواجاڑ دیاکرتے ہیں۔اوراس کے باشندوں میں سے معزز لوگوںکوذلیل یعنی جانوروں کی طرح کردیاکرتے ہیں۔وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ اورہمیشہ بادشاہ اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ دنیا کی تاریخ پر غورکرکے دیکھ لو۔جب بھی کوئی قوم کسی ملک کو فتح کرتی ہے وہ اپنی فتح کے غرور میں مفتوح قوم پر بڑی بڑی سختیاں کرتی ہے اورپھر غرور کے علاوہ اس قوم کو یہ ڈر بھی ہوتاہے کہ اگر مفتوحین کوجلد کچلا نہ گیا۔توممکن ہے یہ پھر بغاوت کردیں۔گویا ان کے قلوب میں اطمینان نہیں ہوتا۔اورانہیں ہروقت بغاوت کاخطرہ رہتاہے۔اسی لئے وہ حدسے زیادہ مظالم ڈھاتے اوربڑی بڑی سختیاں لوگوںپر کرتے ہیں۔جیسے اٹلی نے جب ایبے سینیا پرقبضہ کیا تواس نے بڑے بڑے ظلم کئے۔عرب لو گ ان مظالم کو کثرت سے بیان کیا کرتے ہیں۔ان کابیان ہے کہ اٹلی نے ایبے سینیا پر قبضہ کرنے کے بعد ہزاروں آدمی بلاوجہ مرواڈالے۔اوربعض دفعہ لوگوںپر اپنی حکومت کارعب جمانے کے لئے گھروںکے دروازوں پر لوگوں کوپھانسی پر لٹکادیاجاتا۔حالانکہ ان کاکوئی قصور نہیں ہوتاتھا۔غرض ہرقوم جس کی بنیا د مذہب پر نہیں ملکوں کو فتح کرنے کے بعد اس قسم کے مظالم کیاکرتی ہے۔آخر دنیا میں ہزاروں سال کی تاریخ موجود ہے۔تم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اتباع کو چھو ڑکر یاایک دواَور بادشاہوں کومستثنٰی کرکے بتائو تو سہی کہ کسی قوم نے کسی ملک پر غلبہ حاصل کیا ہو۔اوراس نے وہاں ظلم و ستم کا بازار نہ گرم کردیاہو۔تورات پڑھ کر دیکھ لو وہاں بھی یہی احکا م ہیں کہ ’’ جبکہ خداوند تیراخداانہیں تیرے حوالے کرے۔توتُوانہیں ماریواور حرم کیجیئو۔نہ توان سے کوئی عہد کریو۔اورنہ ان پر رحم کریو…… تم ان کے مذبحوںکو ڈھادو اور ان کے بتوں کوتوڑ دو۔ان کے گھنے باغوں کو کاٹ ڈالو او ران کی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلادو۔‘‘ (استثناء باب ۷ آیت ۲تا ۵) اسی طرح لکھا ہے:۔’’ جب خداوند تیراخدا اسے تیرے قبضہ میں کردے توتُو وہاں کے ہر ایک مرد کوتلوار کی دھار سے قتل کر …اورجو کچھ اس شہر میں ہو اس کا سارالوٹ اپنے لئے لے۔‘‘ (استثناء باب ۲۰آیت ۱۳تا۱۶) غرض جب کوئی قوم فاتح ہوتووہ یہی کچھ کیا کرتی ہے۔انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا توانہوں نے بھی یہاں کے لوگو ں پر بڑی بڑی سختیاں کیں او رجب غصہ نکل گیا تب اعتدال پر آئے۔ورنہ غدر کے ایام میں