تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 87

قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ فِيْۤ اَمْرِيْ١ۚ مَا كُنْتُ پھر اس (ملکہ) نے کہا۔اے سردارو! میرے معاملہ میں اپنی پختہ رائے دو۔کیونکہ میں کبھی بھی کوئی فیصلہ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ۰۰۳۳قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس حاضرہو(کر مشورہ نہ دے لو)۔انہوں(یعنی درباریوں)نے کہا ہم اُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِيْ مَا ذَا بڑی طاقت والے ہیں اوربڑے جنگجوہیںاور(آخری )معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔پس غور کرلیں کہ آپ کیا تَاْمُرِيْنَ۰۰۳۴قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً حکم دیناچاہتی ہیں (ہم اس کی اتباع کریں گے )اس نے کہا کہ جب بادشاہ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تواسے اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ۰۰۳۵ تباہ کردیتے ہیں اوراس کے باشندوں میں سے معزز لوگوںکو ذلیل کردیاکرتے ہیں اوروہ اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں۔حلّ لُغَات۔قَاطِعَۃٌ۔قَاطِعَۃٌ قَطَعَ سے اسم فاعل واحد مؤنث کاصیغہ ہے اورقَطَعَ فُلَانٌ فِی الْقَوْلِ کے معنے ہیں جَزَمَ اس نے بات پختہ کرلی (اقرب) قَاطِعَۃٌکے معنے ہوں گے پختہ فیصلہ کرنے والی۔تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ خط سن کر ملکہ سبانے کہا۔اے میری قوم کے سردارو۔میری اس مشکل میں مجھے مشورہ دو۔جب تک تم میرے دربار میں حاضر ہوکر مشورہ نہ دو میں کوئی فیصلہ نہیں کیاکرتی۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت بھی ڈیماکرسی قائم ہوگئی تھی اوربادشاہت کے حقوق محدود تھے۔ان سورمائوں نے جنہوں نے حضرت سلیمان ؑ کے ایک لشکر کے سردار کو جوپِدّی جیساجانورتھا دیکھ لیا تھا کہا کہ حضور ہم تو بڑے طاقتورہیں اورجنگ میں بڑے آزمودہ کار ہیں۔ان پرندوں کے لشکر نے ہمار اکیابگاڑ لیناہے۔دس منٹ میں ہمارے بچے ہی ان کو مارمار کرکھاجائیں گے۔مگر فیصلہ بہرحال آپ کے اختیار میں ہے جو آ پ حکم دیں گے کرلیںگے۔اگرآپ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان چڑیوں کے پیچھے آپ کے جرنیل گھوڑے دوڑاتے ہوئے دوڑ پڑیں توہم ایسا ہی کریں گے اور اگرآپ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان چڑیوںکو بھون بھون کر کھاجائو توہم ایسا ہی کریں گے۔