تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 86
حضرت موسیٰ ؑ کی طرح شریعت دی جائے گی۔(۳)وہ جو نیامضمون بھی خدا کی طرف سے پاکر دنیا کے سامنے پیش کرے گا اس سے پہلے یہ کہہ لے گا کہ میں خدا تعالیٰ کانام لے کر اس کلام کو شروع کرتاہوں۔(۴)اگر کوئی جھوٹاانسان اس پیشگوئی کو اپنے اوپر چسپاں کرناچاہے گا تووہ ہلاک ہوجائے گا۔(۵)اورجواس پیشگوئی کے مصداق کاانکار کرے گا۔وہ بھی ہلاک کیاجائے گا۔پس اس پیشگوئی کے مطابق ہرسورۃ سے پہلے بسم اللہ رکھ دی گئی۔اوراس طرح یہود اور نصاریٰ کوتوجہ دلائی گئی کہ اگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ؑ اوروہ موعود نبی نہیں توانہیں سزاملے گی کیونکہ پیشگوئی کے مطابق اس پیشگوئی کاجھوٹامصداق سزاسے نہیں بچ سکتا۔لیکن اگر وہ وہی موعود ہیں اوراس پیشگوئی کے مطابق خدا کاکلام اس کانام لے کر بیان کرتے ہیں توپیشگوئی کے مطابق تم انکار کرکے سزاسے بچ نہیںسکتے۔بلکہ خدا تعالیٰ تم سے ضرور حساب لے گا۔غرض باوجود اس کی کہ بسم اللہ پہلے انبیاء کی امتوں میں بھی مروج تھی۔قرآن کریم میں اس کاوجود چوری نہیں کہلاسکتا۔کیونکہ (۱)قرآن کریم خودتسلیم کرتاہے کہ اس سے پہلے بسم اللہ تھی (۲)اس لئے کہ اس میں بسم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کوپوراکرنے کے لئے آئی ہے۔اگر اس کی ہرسورۃ بسم اللہ سے شروع نہ ہوتی توحضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی جھوٹی ہوجاتی۔مگرکیایہ امر دساتیر کے متعلق ثابت کیاجاسکتاہے کہ ان کے مصنف بنی اسرائیل میںسے تھے یاحضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح شریعت لائے تھے۔یاان کی ہروحی سے پہلے بسم اللہ لکھاہواہوتاتھا۔وہ تو ایک تاریخ کی کتاب ہے جس میں انبیاء کاحال ہے۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کے یہ الفاظ تھے کہ ’’ ایسا ہوگا کہ جوکوئی میری باتوںکو جووہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تومیں ا س کاحساب اس سے لوں گا۔‘‘گویا ان الفاظ میں یہ شرط بتائی گئی تھی کہ وہ خدا کی وحی ا س کانام لے کر بیان کرے گا پس بسم اللہ کاقرآن مجید کی ہرسورۃ سے پہلے آنا اس پیشگوئی کے مطابق ہے۔اوراس پر چوری کا اعتراض خصوصاً ا ن اقوام کے منہ سے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروہیں بالکل زیب نہیں دیتا۔