تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 85

ظاہر ہو۔کہ تم گنا ہ نہ کرو۔مگر پھر بھی وہ لوگ دور ہی کھڑے رہے اورصرف حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی اللہ تعالیٰ کے پاس گئے (خروج باب ۲۰آیت ۱۹تا۲۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے جاکر عرض کیا کہ الٰہی میری قوم توتیرے پاس آنے سے ڈرتی ہے تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ وحی نازل ہوئی کہ :۔’’ خداوند تیراخداتیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپاکرے گا۔تم اس کی طرف کان دھریو۔اس سب کی مانند جو تُو نے خداوند اپنے خدا سے حورب میں مجمع کے دن مانگا۔اورکہا کہ ایسانہ ہوکہ میں خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنوں اور ایسی شدت کی آگ میں پھر دیکھوں تاکہ میں مرنہ جائوں۔اورخداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جوکچھ کیاسواچھا کیا۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپاکروں گا۔اورجوکچھ میں اسے فرمائوں گا وہ سب اسے کہے گا۔اورایساہوگاکہ جو کوئی میری باتوںکو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گاتومیں اس کا حساب اس سے لوں گا۔لیکن وہ نبی جوایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کامیں نے اسے حکم نہیں دیا اورمعبودوں کے نام سے کہے تووہ نبی قتل کیاجائے۔‘‘ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵تا۲۰) اس پیشگوئی میں بتایاگیاتھاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک نبی ان کامثیل بن کرآئے گا۔اوروہ جب بھی خدا تعالیٰ کاکلام سنائے گاتوکہے گاکہ میں خدا کانام لے کریہ کلام سناتاہوں۔اورخدا کانام لے کر کاترجمہ عربی زبان میں بسم اللہ ہی ہے۔پس بسم اللہ میں اسم کا لفظ بڑھا کر اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اوراس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا قرآن کریم کی ہرسورۃ کے شروع میں ہی ایک ثبوت پیش کردیاگیا ہے تایہودیوں اورعیسائیوں پر آپ کی سچائی کھل جائے۔اوران پر حجت پو ری ہوکہ وہ موعود جس کاان کی کتابوں میں ذکر ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔جو ہربات کو اللہ تعالیٰ کانام لے کر بیان کرتے ہیں۔پس ہرسورۃ سے پہلے بسم اللہ ہریہودی اور ہرعیسائی کوتوجہ دلاتی ہے کہ تم کیوں اس نبی کو نہیں مانتے جو موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کے مطابق جب اللہ تعالیٰ کاکلام سناتاہے تواس سے پہلے یہ الفاظ بھی کہہ دیتاہے کہ میں اللہ کا نام لے کر یہ کلام سناتاہوں۔بہرحال اس پیشگوئی میں بتایاگیا تھا کہ (۱)بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسمٰعیلؑ میں سے ایک نبی آئے گا۔(۲)اس کو