تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 84

کاحوالہ نہیںدے سکے اور نہ ا ن کے الفاظ نقل کرسکے البتہ زرتشتیوں او رصابیوں کی کتب کے حوالے انہوں نے نقل کردیئے ہیں۔جس سے یہ بات اَور بھی روشن ہوجاتی ہے کہ اس آیت کے حسن کو دیکھ کر وہ کچھ ایسے بدحواس ہوگئے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اپنی مذہبی کتب میں اس کاوجود ثابت کرناچاہتے ہیں۔باقی رہے صابی اور زرتشتی سوصابیوں کی کتب تو محفوظ نہیں۔ہاں زرتشتیوں کی کتب کے بعض حصے اس وقت بھی پائے جاتے ہیں۔لیکن ان کتب کی نسبت خود زرتشتی لوگ کہتے ہیں کہ وہ اصل صورت میں محفوظ نہیں ہیں۔پس کیاتعجب ہے کہ ان کے بعض حصے اسلام کے بعد ہی بنائے گئے ہوں۔لیکن اگر ان کتب کو صحیح بھی تسلیم کرلیاجائے تب بھی قرآن کریم پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا کیونکہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہی نہیں کہ یہ آیت پہلی دفعہ قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے۔بلکہ وہ خود تسلیم کرتاہے کہ یہ آیت پہلے بھی دنیا میں موجود تھی۔چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو خط ملکہء سبا کو لکھا۔اس کے الفاظ بتائےگئے ہیں کہبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔اَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَ اْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ۔پس اگریہ ثابت بھی ہوجائے کہ یہود یا زرتشتیوں یاصابیوں یا کسی اَور قوم میں یہ آیت پہلے سے موجود تھی توبھی کوئی حر ج نہیں کیونکہ جب قرآن کریم خود تسلیم کرتاہے کہ یہ آیت حضرت سلیمان علیہ السلام کو معلوم تھی۔توجو آیت حضرت سلیمان علیہ السلام کو معلوم تھی وہ یقیناً ان کے اتباع کوبھی معلوم ہوگی اوربالکل ممکن ہے کہ دوسری قوموں کے نبیوں کو بھی معلوم ہو۔فرق صرف یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس کامضمون عربی زبان میں نازل ہواہے۔اورپہلی قوموں میں ان کی اپنی زبانوں میں ہوگا۔مگربایں ہمہ قرآن کریم میں ہرسورۃ سے پہلے اس آیت کی موجودگی نقل نہیں کہلاسکتی۔کیونکہ قرآن کریم میں اس آیت کاوجود ایک پیشگوئی کو پوراکرنے کے لئے ہے اورجوکلام کسی نئی غرض کے لئے دوہرایاجائے اور کسی خاص فائدہ کے لئے اختیار کیاجائے وہ نقل یا چوری ہرگز نہیں کہلاتا۔یہ پیشگوئی خروج باب ۱۹،۲۰ اوراستثناء باب ۱۸ میں مذکور ہے۔اوراس کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ بنی اسرائیل کو پاک کرکے سینا کے نیچے لاکھڑاکر۔تاکہ وہ سنیں کہ میں تجھ سے کلام کرتاہوں۔پہلے تووہ پہاڑ کے پاس کھڑے رہیں۔لیکن جب قرنا کی آواز بہت بلند ہوتو قریب آجائیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جب وہاں گئے اورخدا تعالیٰ کاکلام نازل ہواتواس کے ساتھ ہی بجلی چمکی اور دھواں اٹھا اورگرج پیداہوئی۔وہ لوگ ڈر کے دورجاکھڑے ہوئے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس گئے توانہوں نے کہا کہ تُو ہی ہم سے بو ل اور ہم سنیں۔لیکن خداہم سے نہ بولے۔کہیں ہم مرنہ جائیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا کہ تم مت ڈرو۔اس لئے کہ خداآیا ہے تاکہ تمہاراامتحان کرے اورتاکہ اس کاجلال تمہارے سامنے