تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 83

کرو۔اورفرمانبردار ہوکر میرے حضورحاضرہوجائو۔دیکھو یہ کتنا واضح اشار ہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بلاوجہ اس ملک کی طرف نہیں گئے تھے بلکہ پہلے اس ملک کے لوگوں نے کوئی سرکشی کی تھی اس سر کشی کو دبانے کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلام نے یمن کا رخ کیاتھا۔اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا۔کہ اگر تم فرمانبرداری اختیار کروگے تومیں تمہار اپہلا قصور معاف کردوں گا۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے خط سے پہلے جو بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے الفاظ لکھے ہیں۔ان کو دیکھ کر دشمنان اسلام کی طرف سے بالعموم یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم نے اپنی ہر سورۃ کے ابتداء میں جو بسم اللہ لکھی ہے وہ درحقیقت پرانی کتب کی ایک چوری ہے اورپہلے لوگ بھی اس کاعلم رکھتے تھے۔چنانچہ راڈول لکھتاہے کہ یہ کلمہ یہودی الاصل ہے (وہیری ص۲۸۹ جلد اول)اور وہیری لکھتاہے کہ یہ امر یقینی ہے کہ یہ کلمہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے یہودیوں اور صابیوں سے مستعار لیا ہے۔آخرالذکر ہمیشہ اپنی تحریروں سے پہلے یہ لکھاکرتے تھے۔’’ بنامِ یزداں بخشائش گردادار(تفسیروہیری للقرآن الکریم جلد اول صفحہ ۲۸۹) پادری سینٹ کلیئر ٹسڈل صاحب نے اپنی کتاب ’’ ینابیع الاسلام ‘‘ میں اس عبارت کو زرتشتیوں کی طر ف منسوب کیاہے اورلکھاہے کہ کتاب دساتیر میں ہرنبی کے صحیفہ سے پہلے یہ عبارت ہے ‘‘بنام ایزد بخشائش گرمہربان دادگر‘‘(اردو ترجمہ ینابیع الاسلام اردو ترجمہ صفحہ ۱۲۷) یہ عجیب بات ہے کہ تین مسیحی مصنف اس آیت کومسروقہ ثابت کرنے کے لئے تین سرچشمے اس کے بیان کرتے ہیں۔ایک یہودیوںکو اس کاسرچشمہ بتاتاہے۔دوسراصابیوں کو۔تیسرازردشتیوںکو۔ان لوگوںکا اس آیت کو مسروقہ ثابت کرنے کے لئے اس قدر کوشش کرناخود اس امر کاثبوت ہے کہ ان کے نزدیک یہ آیت اپنے معنوں کے لحاظ سے ایک سمندرہے۔ورنہ ان کا یہ لکھ دینا ہی کافی ہوتاکہ اس آیت کے مضمون میں کوئی خاص خوبی نہیں۔پھرسوال یہ ہے کہ تینوں سرچشموں میں سے اصل سرچشمہ کون ساہے؟ تینوںقوموںکو ا س آیت کاموجد تو قرار نہیں دیاجاسکتا۔پس ضروری ہے کہ یہ مسیحی مصنف یا ان کے شاگرد یہ تصفیہ بھی کرلیں کہ آیا یہودیوں نے زردشتیوں یا صابیوں سے چرایا ہے یابرعکس معاملہ ہے۔یہ لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہودیوں میں اس کلمہ کے استعمال کا ایک بھی حوالہ نہیں دیاگیا۔اورنہ وہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں کہ جن میں یہودی اس مضمون کو بیان کیاکرتے تھے۔بلکہ باوجود اس بات کے کہ مسیحیت یہودیت کی ایک شاخ ہے اوریہودی کتب گویامسیحیوں کی اپنی مذہبی کتب ہیں پھر بھی مسیحی مصنّف یہودی کتب