تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 74
لَاَاذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۰۰۲۲ (اپنی غیر حاضری کی )پیش کرےگا۔تفسیر۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے سارے لشکر کاجائز ہ لیا اورامراء لشکرکواپنے سامنے حاضری کاحکم دیا تواس وقت علماء میں سے ایک سردار کو جس کانام ہد ہد تھا انہوں نے غائب پایا اس نہایت ہی نازک موقعہ پر جبکہ آپ ایک ملک پر حملہ کرنے کے لئے جارہے تھے اپنے لشکر کے ایک سردار کو غائب دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام کاغصہ بھڑک اٹھا اور ان کا ذہن اس طرف منتقل ہوگیاکہ مبادا اس میں کوئی سازش کام کررہی ہو۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ کیا ہدہد پر میری نظر نہیں پڑی یا وہ کہیں بھاگ گیا ہے۔اب میں اسے یاتوکوئی شدید ترین سزادوں گا یااسے قتل کردوں گا اوریاپھر اسے میرے سامنے کوئی واضح ثبوت پیش کرنا پڑے گا کہ وہ کیوں غائب رہا۔مفسرین خیال کرتے ہیں کہ سچ مچ کے پرندے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر میں شامل تھے اورلشکر کاایک سردار ہدہد پرندہ تھا۔جس کو چھوٹے اور بچے بھی غلیلوں سے مار لیتے ہیں۔اس زبردست لشکرکو لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام یمن کا ملک فتح کرنے کے لئے نکلے تھے(معالم التنزیل و طبری)۔ہرعقلمند سمجھ سکتاہے کہ یہ قصہ ہدہد کوسردار ثابت نہیں کرتا بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو نعوذ باللہ بیوقوف ثابت کرتاہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے نبی بیوقوف نہیں ہواکرتے۔یمن کا ملک فتح کرنے کے لئے کبوتر۔فاختہ۔چڑیاں۔ہدہد۔بٹیر اور تلئیر لے کر نکلناکسی عقلمندکاکام نہیں ہوسکتا۔ایسے لشکروں کو فتح کرنے کے لئے بادشاہ کی فوجوں کو نکلنے کی ضرورت نہیںہوتی۔ایسے لشکروں کے آنے کی خبر سن کر توسارے شہر کی گلیوں میں سے بچے اپنی غلیلیں لے کر نکل پڑیں گے اورسارے شہر کے لئے عید کادن آجائے گا اورخوب پرندوں کاگوشت کھایاجائے گا۔آخر یہ جنگ ہو نے لگی تھی یاچڑی ماروں کامظاہرہ ہواتھا۔تفسیروں کے ان قصوں کو پڑھ کر خیا ل آتاہے کہ تیمور جو کچھ کرتاتھا ٹھیک ہی کرتاتھا۔کیونکہ جو علماء جنگ کو ایسی حقیر کھیل سمجھتے تھے ان کو لشکرکے پیچھے ہی رکھنامناسب تھا۔پھر لطف یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ جن کے متعلق ابھی یہ کہاگیا ہے کہ وہ ایک چیونٹی کوبھی جانتے ہوئے اپنے پیروں کے نیچے نہیں کچلتے تھے۔اب اتنے غصے میں آگئے کہ ہدہد جیسے جانور کے متعلق جوایک پِدّی کے برابر ہوتاہے اورکوئی عقل نہیں رکھتافرماتے ہیں کہ یاتووہ کوئی زبردست