تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 75
دلیل لائے ورنہ میں اس کوذبح کرڈالوں گا۔اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔پرندوں سے وہ امید رکھنی جو بلند عقلی کے مالک انسانوں سے رکھی جاتی ہے ایک نبی کاکام نہیں ہوسکتا۔نہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایساکرتے تھے۔آخر قرآن ہمارے سامنے ہے کیاقرآن سے یہی پتہ لگتاہے کہ پرندے ایسی عقل کے مالک ہیں۔اگر ان سے کوئی قصورسرزد ہو تو آدمی تلوار لے کرکھڑاہوجائے اوراسے کہے وجہ بیان کرو ورنہ ابھی تمہاراسرکاٹ دوں گا۔یاکبھی تم نے دیکھا کہ تمہاراکوئی ہمسایہ ہدہدپکڑکر اسے سوٹیاں ماررہاہو اور کہہ رہاہو کہ میرے دانے تُو کیوں کھا گیا تھا اوراگر تم کسی کو ایساکرتے دیکھو توکیاتم اسے پاگل نہیں قرار دوگے۔پھر وہ لوگ جوحضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف یہ امر منسوب کرتے ہیں کہ انہوں نے ہدہد کے متعلق یہ کہا وہ اپنے عمل سے یہی فتویٰ حضرت سلیمان علیہ السلام پربھی لگاتے ہیں بلکہ حضرت سلیمانؑ تویہاں تک کہتے ہیں کہ میں اسے سخت ترین سزادوں گا۔اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۔ورنہ وہ ایسی دلیل پیش کرے جونہایت ہی واضح او رمنطقی ہو۔گویا وہ ہدہد سقراط بقراط اورافلاطون کی طرح دلائل بھی جانتاتھا۔اور حضرت سلیمانؑ اس سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنے دلائل پیش کرے گا۔(۲)پھرقرآن تو یہ کہتاہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جنّوں،انسانوں اورطیورکے لشکرتھے مگرحضرت سلیمان ؑ کی نظر صرف ہدہد کی طرف جاتی ہے۔اورفرماتے ہیں مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ کیاہواکہ اس لشکر میں ہدہد کہیں نظر نہیں آتا۔دنیوی حکومتوں میں تو جس کا قد پانچ فٹ سے کم ہو۔وہ فوج میں بھرتی کے قابل نہیں سمجھاجاتا۔مگرحضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ عجیب بھرتی شروع کردی تھی کہ ہدہد بھی ان کے لشکر میں شامل تھا۔پھر ہدہد کی کوئی فوج آپ کے پاس ہوتی۔تب بھی کوئی بات تھی۔بتایایہ جاتاہے کہ ہدہد صرف ایک آپ کے پاس تھا۔اس ایک ہدہدنے بھلا کیاکام کرناتھا۔اورایک جانور ساتھ لے جانے سے کیا مطلب تھا۔(۳)تیسری بات یہ ہے کہ قرآن یہ کہتاہے۔کہ ہدہدنے یہ یہ کہا۔اورمعجزہ یہ بیان کیاگیاہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی سمجھتے تھے حالانکہ اصولی طور پر یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کامعجزہ بیان ہوناچاہیے تھا۔مگربیان ہدہد کامعجز ہ ہوتاہے جوسلیمان علیہ السلام کے معجزہ سے بھی بڑھ کرہے۔(۴)ایک اَور بات یہ بھی ہے کہ ہدہد ان جانوروں میںسے نہیں جو تیزپرواز ہوں اوراس قد ردور کے سفر کرتے ہوں۔یہ جہاں پیدا ہوتاہے وہیں مرتاہے۔مگرقرآن یہ بتلاتاہے کہ ہدہد دمشق سے اُڑا اور آٹھ سومیل اڑتا چلاگیا۔یہاں تک کہ سباکے ملک تک پہنچا اوروہاں سے خبر بھی لے آیا۔گویا وہ ہدہد آجکل کے ہوائی جہازوں سے بھی زیادہ تیز رفتارتھا۔اورمعجزہ دکھانے والا ہدہدتھا نہ کہ حضرت سلیمان ؑ۔حالانکہ بتانایہ مقصود تھا کہ حضرت سلیمان ؑ