تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 73

نملہ قوم کی ملکہ کایہ اعلان کرنا کہ اپنے اپنے گھروں میں گھس جائو اوردروازے بندکرلو۔دراصل ا س جنگی دستور کے مطابق تھا کہ جب کو ئی لشکر کہیں سے گذرے اوروہاں کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں گھس جائیں اوردروازے بندکرلیں تواس کے معنے یہ ہوتے تھے کہ وہ اپنی شکست تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ فتح مکہ کے موقعہ پر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کرادیاتھا کہ جولوگ اپنے اپنے گھروں میں گھس جائیں گے اور دروازے بندکرلیں گے۔توان سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔یہی نملہ نے کہا۔کہ اپنے اپنے گھروں میں گھس جائو اور دروازے بند کرلو۔حضرت سلیمان ؑ سمجھ جائیں گے کہ یہ میرامقابلہ کرناچانہیںہتے۔اگرہم باہر رہیں گے توممکن ہے وہ حملہ کردیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب نملہ قوم کی ملکہ کا یہ اعلان پہنچا۔تووہ ہنسے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کا شکر اداکیا کہ میری نیکی اورتقویٰ کی کتنی دوردور خبر پہنچی ہوئی ہے۔یہ قوم بھی جو اتنی دوررہتی ہے سمجھتی ہے کہ سلیمانؑ ظالمانہ طور پر حملے نہیں کیاکرتا۔اگرہم اپنے دروازے بندکرلیں گے تویہ ہم پر حملہ نہیں کرے گا حالانکہ اس زمانہ کے جنگی دستور کے مطابق جو فاتح قوم ہوتی تھی وہ ملک کو لوٹ لیا کرتی تھی۔چنانچہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے مخاطب ہوکر کہا کہ اے اللہ! یہ نیک شہرت تیرے فضل سے ہوئی ہے۔پس تومجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس انعام کا شکریہ ادا کروںجوتُونے مجھ پر اور میرے ما ں باپ پرنازل کیا ہے اورہمیشہ ایسے کام کروں جن سے توراضی ہو۔یعنی جس طرح اب ایک نملہ نے تسلیم کیا ہے کہ سلیمانؑ اوراس کے ساتھی جانتے بوجھتے ہوئے ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔اگران لوگوں کے ہاتھوں سے کوئی نقصان پہنچا تووہ محض غفلت کا نتیجہ ہوگا۔ورنہ ارادتاً وہ کوئی ظلم اور تعدّی نہیں کرسکتے۔اسی طرح تومجھے اور میرے لشکریوں کو توفیق عطافرماکہ وہ ہمیشہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق سے آراستہ رہیں اورہمیشہ لوگ یہ تسلیم کرتے رہیں کہ ان لوگوں کے ہاتھوں سے دیدہ و دانستہ کوئی ظلم سرزد نہیںہوسکتا۔اورتُو اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرمادے۔وَ تَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖٞ اَمْ كَانَ اوراس نے سب پرندوں کی حاضری لی۔پھر کہا۔مجھے کیاہواہے۔کہ میں ھد ھد کونہیں دیکھتا۔یاوہ (جان بوجھ مِنَ الْغَآىِٕبِيْنَ۠۰۰۲۱لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ کر )غیر حاضر ہے۔میں اس کویقیناًسخت سزادوں گا۔یااسے قتل کردوں گا۔یاوہ میرے سامنے کوئی کھلی دلیل