تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 72

بعض قوموں کے نام بھیڑیا،سانپ، بچھواورکنکھجورا وغیرہ ہواکرتے تھے۔بلکہ ہمارے ملک میں ہی ایک قوم کانام کاڈھا ہے۔نورالدین کاڈھالاہور کے ایک مشہور شخص ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک قوم کانام کیڑے ہے۔ایک کانام مکوڑے ہے۔کشمیر میں ایک قوم کانام ہاپت ہے جس کے معنے ریچھ کے ہیں(تاریخ اقوام کشمیرصفحہ ۳۰۰)۔اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام جب ملکہ سبا پر حملہ کرنے کے لئے اپنے ملک سے یمن کی طرف چلے توان کا گذر نملہ قوم کی وادی میں سے ہوا۔جس کو غلطی سے مفسروں نے چیونٹیوں کی وادی بنالیاہے۔جب آپ وہاں پہنچے تو نملہ قوم کی ملکہ نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے کہا کہ اے نملہ قوم کے لوگو !اپنے اپنے گھروں میں گھس جائو ایسانہ ہوکہ یہ خیال کرکے کہ تم سلیمانؑ کے لشکر کامقابلہ کرناچاہتے ہو سلیمان اور اس کالشکر تمہیں پائوں کے نیچے روند ڈالیں۔ان الفاظ نے مفسرین کو اور بھی جرأت دلائی اورانہوں نے یقینی طورپر اسے ایک چیونٹی کاکلام قرار دےدیا۔حالانکہ جب کوئی حملہ آورکسی مقابل قوم کوسختی سے شکست دیتاہے تواس کے لئے محاور ہ میں روند ڈالنے کے الفاظ ہی استعمال کئے جاتے ہیں۔پس اول تو محاورہ کے لحاظ سے یہ لفظ بالکل واضح تھا لیکن اگر وہ لغت کو دیکھتے توانہیں معلوم ہوجاتاکہ حَطَمَ کے معنے توڑ ڈالنے کے بھی ہیں (اقرب) اورمراد یہ ہے کہ ا س نملہ قو م کی ملکہ نے کہا کہ سلیمان ؑ تم کو توڑ نہ ڈالے یعنی تمہاری قو ت اورشوکت کو کچل نہ دے۔فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِھَا۔اس پر سلیمانؑ اس نملہ کی بات سن کر ہنس پڑے۔یہاں مفسروں نے یہ عجیب بات نکالی ہے کہ سلیمانؑ جسے خدا نے پرندوں کی بولی سکھائی تھی اورمفسروں نے چیونٹیوں کی۔اس نے چیونٹیوں کے سردار کی بات فوراً سمجھ لی اور ہنس پڑا کہ دیکھو چیونٹیاں بھی مجھے کتنا انصاف پسند سمجھتی ہیں کہ بے سوچے سمجھے تومیراپیرچیونٹی پرپڑ سکتاہے۔لیکن میں جان بوجھ کر کسی چیونٹی پر بھی پیرنہیں رکھوں گا۔حالانکہ کوئی شریف آدمی بھی خواہ وہ غیر نبی ہو جان بوجھ کر چیونٹیوں کے اوپر پیر نہیں رکھاکرتا۔ہم نے توکئی شریف آدمیوںکودیکھا ہے کہ برسات کے موسم میں جب کیڑے زمین میںسے نکل آتے ہیں تووہ بچ بچ کرچلتے ہیں کہ کہیں زیاد ہ کیڑے ان کے پیر کے نیچے آکر نہ مارے جائیں۔پس یہ بات توغلط ہے۔اصل بات صرف اتنی تھی کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کومعلوم ہواکہ نملہ قوم کی ملکہ نے اپنی قوم کو کہہ دیاہے کہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ جائو۔اورمخالف مظاہر ہ نہ کرو۔تاکہ اس مظاہر ہ سے بھڑک کر حضرت سلیمانؑ کالشکر ان پر حملہ نہ کردے۔اوران کو پتہ بھی نہ لگے کہ سردارِ قوم نے اپنی قوم کو عجز وانکسار کاحکم دیا ہے۔توآپ ہنس پڑے کہ خدا تعالیٰ نے کس طرح دوردراز کے ملکوں تک بھی یہ بات پھیلادی ہے کہ سلیمانؑ ظالم نہیں اوروہ ادنیٰ اقوام کے ساتھ بھی انصاف کاسلوک کرتاہے۔