تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 67
کھڑے ہو۔پیچھے ہٹو تاکہ کسی طر ح بادشاہ کی جان بچائی جاسکے اورپھر جمع ہوکر دشمن پر حملہ کریں اس پر جنرل نےؔ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔اورنہایت سادگی سے کہا۔’’مگرمیں کیاکروں مجھے نپولین نے پیچھے ہٹنانہیں سکھایا‘‘۔اس جگہ پر جو جنّ کالفظ بولاگیاہے وہ ایسے ہی خاص دستوں کے لئے بولاگیاہے۔کیونکہ ان دستوں میں معزز خاندانوں کے افراد بھرتی کئے جاتے تھے جوگھروں میں اورپہروں کے پیچھے رہنے کے عادی ہوتے تھے اورجنّ کہلانے کے مستحق تھے جس کے معنے پوشیدہ وجود کے ہیں۔یعنی وہ لو گ جوعام طورپر نظر نہیں آتے اورپوشیدہ رہتے تھے۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے کہ جنّ کے معنے ہرایسی چیز کے ہوتے ہیں جو حواس سے چھپی ہوئی ہو(اقرب)یعنی جن کی آوازیں سنائی نہ دیں۔اورآنکھوں کو نظر نہ آئیں۔گویادنیا سے الگ تھلگ رہنے والے لوگ یادوسرے لفظوں میںامراء جیساکہ لغت نے واضح معنے اس کے امراء بھی کردیئے ہیں۔پس حضرت سلیمان علیہ السلام کالشکر تین قسم کے لوگوں پرمشتمل تھا (۱)امراء کا خاص حفاظتی دستہ۔(۲)عوام الناس کی فوج۔(۳)روحانی لوگوں کادستہ۔حضرت سلیمان علیہ السلام ان کو الگ الگ کھڑاکیاکرتے تھے۔جس طرح تیمور بھی اپنی فوج کے مختلف لوگوںکوالگ کھڑاکیاکرتاتھا۔مگروہ روحانی لوگوںیامولویوںکوفوج کے پیچھے کھڑاکیاکرتاتھا۔اورکہتاتھاکہ یہ جنگ میں سب سے پہلے بھاگیں گے۔اس لئے ان کو پیچھے کھڑاکرناچاہیے۔مگرہم نہیں کہہ سکتے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت میں بھی علماء کا یہی حال تھا ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں علماء کایہ حال نہیں تھا۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ صحابہؓ میں سب سے زیادہ بہادر اوردلیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اورپھر انہوںنے کہا کہ جنگ بد ر میں جب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک علیحدہ چبوترہ بنایاگیا تواس وقت سوال پیداہواکہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا کام کس کے سپرد کیاجائے۔اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فوراً ننگی تلوار لے کرکھڑے ہوگئے اورانہوں نے اس انتہائی خطرہ کے موقعہ پر نہایت دلیری کے ساتھ آپؐ کی حفاظت کافرض سرانجام دیا (تاریخ الخلفاء للسیوطی ،ابو بکر صدیق فصل فی شجاعتہ) اسی طرح احادیث میں آتاہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا۔اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بابُھَا۔(الجامع الصغیر جلد ۲ صفحہ ۱۶۱ حدیث نمبر ۲۷۰۵)یعنی میں علم کاشہر ہوں اورعلیؓ اس کادروازہ ہیں۔پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء میں سے قرار دیا ہے مگر خیبر کی جنگ میں سب سے نازک وقت میں اسلام کا جھنڈا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ہی کے ہاتھ میں دیاتھا (ترمذی ابواب المناقب باب مناقب علیؓ)۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت علماء بزدل نہیں تھے بلکہ سب سے زیاد ہ بہادر تھے۔ہاں