تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 66
پڑے گی۔اصل بات یہ ہے کہ بعض لوگ بڑے متکبر اورسرکش ہوتے ہیں جوکسی دوسرے کی اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔مگرجب انبیاء کے سامنے آتے ہیں تو یکدم ان کی حالت بد ل جاتی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوہی دیکھ لو۔ابتدا ء میں وہ اسلام کی کوئی بات برداشت نہیں کرسکتے تھے اورایک دفعہ تو انہیں یہاں تک جوش آیا کہ تلوار سونت لی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔مگرجب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کے رعب کی وجہ سے کانپنے لگ گئے (سیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ باب ھجرۃ الاولی الی الارض الحبشۃ)۔توبعض طبائع ناری ہوتی ہیں۔مگر جب نبیوں کے سامنے جاتی ہیں توٹھنڈی ہوکر رہ جاتی ہیں۔ایسی طبائع رکھنے والے انسانوںکوعربی زبان میں جنّ کہتے ہیں۔اسی طرح جنّوں سے وہ لوگ بھی مراد ہوتے ہیں جومحلّات میں رہتے ہیں اوران کے دروازہ پر آسانی سے لوگ نہیں پہنچ سکتے۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے جِنُّ النَّاسِ: مُعْظَمُھُمْ (اقرب)یعنی جنّ کا لفظ انسانوں میں سے بڑے آدمیوںکے لئے بولاجاتاہے کیونکہ ان کی حفاظت کے لئے بڑے بڑے مضبوط پہرے دارمقرر ہوتے ہیں اورہرشخص آسانی سے ان تک نہیں پہنچ سکتا۔پرانے زمانہ میں تما م بڑے بڑے بادشاہوں کا یہ دستورتھا کہ وہ خاص خاص مقاموں پر لڑ نے کے لئے اوراپنے باڈی گارڈز کے طور پر اعلیٰ قبیلوں کے آدمیوں کو بھرتی کیاکرتے تھے۔چنانچہ جرمن کے بادشاہ وَل ہیلم نے بھی ایسا دستہ بھرتی کیاہواتھا۔اورنپولین نے بھی ایسادستہ بھرتی کیاہواتھا اورہندوستان کے بادشاہ اکبر نے بھی باہرہ کے سیدوں میں سے ایسا دستہ بھرتی کیاہواتھا۔چنانچہ جب اکبر نے چتوڑ کے قلعہ پر حملہ کیااور وہ قلعہ جلد فتح نہ ہوسکا تواکبرنے ان رجمنٹوںکو جو باہرہ کے سیدوں میں سے بھرتی ہوئی تھیں حکم دیا کہ وہ چتوڑ پر حملہ کریں اور وہ اس وقت تک کٹ کٹ کرمرتے چلے گئے جب تک کہ چتوڑ کے قلعہ کی دیواروں میں رخنہ پیدانہ ہوگیا۔چنگیز خاں نے بھی ایک خاص قبیلہ میں سے اپنی حفاظت کادستہ بھرتی کیاتھا(تاتاریوں کی یلغار صفحہ ۷۰، ۱۲۰۶ء)۔جس کو بڑی عزت دی جاتی تھی۔اوراس دستہ کے افسروں کو بادشاہ کے دربار میں خاص مقام پر بٹھایاجاتاتھا۔نپولین کے محافظ دستہ کا ایک عجیب واقعہ مشہور ہے۔کہ جب واٹرلُو کے میدان میں نپولین کی فوج کو شکست ہوئی تو اس کامحافظ دستہ میدان سے نہیں ہلا۔لارڈ ولنگٹن کی فوج گولے پر گولے برسارہی تھی اوروہ مرتے چلے جاتے تھے لیکن اپنی جگہ نہیں چھوڑتے تھے اس وقت نپولین کی فوج کا ایک جرنیل جوایک خاص کام پر بھیجا گیاتھا واپس آیااور اس نے جنرل نے کو جو اس خاص دستہ کاافسرتھا جاکرکہا کہ ہماراگولہ بارود ختم ہوچکا ہے اوردشمن بڑھتاچلا آرہاہے تم یہاں کیوں