تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 65

الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَاالْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا۔(الاحزاب:۷۳)کہ ہم نے اپنی شریعت اورکلام کوآسمانوں کی مخلوق کے سامنے پیش کیا اورکہا کوئی ہے جو اسے مانے اور اس پر عمل کرے۔اس پر تمام آسمانی مخلوق نے یک زبان ہوکر کہا کہ ہم یہ بارِ امانت اٹھانے کے ہرگز قابل نہیں۔پھر ہم نے زمینوں کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا اورکہا۔لو یہ بوجھ اٹھاتے ہو۔انہوں نے کہا۔ہرگز نہیں۔پہاڑوں پر پیش کیا توانہوں نے بھی انکارکیا حالانکہ لوگ عام طور پر یہ کہاکرتے ہیں کہ جنّ پہاڑوں پر رہتے ہیں۔فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا سارے ڈرگئے اور کسی نے بھی اس ذمہ واری کو اٹھانے کی جرأت نہ کی وَحَمَلَھَاالْاِنْسَانُ صرف ایک انسان آگے بڑھا اوراس نے کہا۔مجھے شریعت دیجیئے۔میں اس پر عمل کرکے دکھائوں گا۔فرماتا ہے اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًاجَھُوْلًا۔انسان نے اپنے نفس پر بڑاظلم کیا۔کیونکہ وہ ہمارے عشق میں سرشار تھا۔اس نے یہ نہیں دیکھا کہ بوجھ کتنا بڑاہے۔بلکہ شوق سے اسے اٹھانے کے لئے آگے نکل آیا۔اب دیکھو یہاں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ شریعت کو اٹھانے والا صرف انسان ہے۔اورکوئی شریعت کا مکلّف نہیں۔اب جبکہ انسان کو ہی خدا نے شریعت دی توسوال یہ ہے کہ اگر جنّ غیر ازانسان ہیں تووہ کہاں سے نکل آئے اورانہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن پر ایمان کاکیوںاظہار کیا۔اگریہ تسلیم کیا جائے کہ و ہ غیر ازانسان تھے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ٹھیرتاہے کیونکہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ انسان کے سواسب مخلوق نے اس شریعت پر عمل کرنے سے انکارکردیا تھا۔اورجبکہ قرآن سے بھی ثابت ہے کہ جنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے توصاف معلوم ہوگیا کہ یہ جنّ انسان ہی تھے غیر از انسان نہیں تھے۔یہاں بھی جنّ سے مراد جنّ الانس ہی ہیں۔ایسی مخلوق مراد نہیں جو انسانوں کے علاوہ ہو۔اورنہ میں ایسے جنّوں کاقائل ہوں جو انسانوں سے آکر چمٹ جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میری ہمشیرہ کے پاس جنّ آتے ہیں اوروہ آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہیں۔حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں خط لکھا کہ آپ ان جنّوں کویہ پیغام پہنچا دیں کہ ایک عورت کوکیوں ستاتے ہو۔اگرستاناہی ہے تومولوی محمد حسین بٹالوی یا مولوی ثناء اللہ کوجاکرستائیں۔ایک غریب عورت کو تنگ کرنے سے کیا فائد ہ؟ توایسے جنّ کوئی نہیں ہوتے جن کو عام لوگ مانتے ہیں۔بیشک کئی ایسے لوگ بھی ہوں گے جوانگریزی تعلیم کے ماتحت پہلے ہی اس امر کے قائل ہوں۔لیکن مومن کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہوتاکہ اس کی عقل کیاکہتی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہوتاہے کہ قرآن کریم کیا کہتاہے۔اگرقرآن کہتاہوکہ جنّ ہوتے ہیں توہم کہیں گے آمنّا وصدّقنا۔اوراگر قرآن سے ثابت ہوکہ انسانوں کے علاوہ جنّ کوئی مخلوق نہیں توپھر ہمیں یہی بات ماننی