تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 49
محبت میں جلے گا وہ غالب ہوگا اورڈنڈے کے زور سے غالب نہیں ہوگا بلکہ اس کوبڑی حکمتیں عطا کی جائیں گی اوروہ دلائل اور براہین کے ساتھ غالب آئے گا۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء دلائل کے ساتھ دنیا پر غالب آئے۔پھر فرماتا ہے ہم نے موسیٰ ؑ کو الہام کیا کہ اپنا سونٹا پھینک دے۔جب اس نے اپنا سونٹا پھینک دیا تواس نے دیکھا کہ وہ تیزی کے ساتھ ہل رہاہے جیسا کہ چھوٹا سانپ ہلتاہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نظارہ کو دیکھ کر دوڑ پڑے اور پیچھے کی طرف انہوں نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔جیسا کہ سورئہ شعراء کی تفسیر میں بتایاجاچکا ہے یہ بھی ایک کشفی نظارہ تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا۔اورعصاسے مراد ان کی جماعت تھی۔چنانچہ عربی زبان میں بھی کہتے ہیں شَقَّ الْعَصَا اورمراد یہ ہوتی ہے کہ اس نے جماعت کی وحدت کو توڑ دیا۔اسی طرح اس نظارہ کے دکھانے سے اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ جب تک تُو اپنی جماعت کو اپنے ہاتھ میں رکھے گا اوراس کی نگرانی کرتارہے گا۔وہ ایک عصاکی شکل میں کارآمد وجود رہے گی۔لیکن جب وہ تیری کامل متابعت کو ترک کرکے تیرے روحانی وجود سے الگ ہوجائے گی تووہ ایک سانپ کی شکل اختیار کرلے گی۔چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کشفی حالت میں اپنا عصاپھینک دیاتوان کو اپنی قوم کا وہ حال نظر آگیا جو ان کی غیر حاضری میں ہونےوالاتھا۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ نظارہ دیکھا تووہ پیٹھ پھیر کر دوڑ پڑے اس پر ان کو الہام ہواکہيٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّيْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔اے موسیٰ!ڈرنے کی کون سی بات ہے۔رسول جب ہماری خدمت میںحاضر ہوتے ہیں توانعام لینے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔سزاپانے کے لئے حاضر نہیں ہوتے۔پس یہ نظارہ تجھے ڈرانے کے لئے نہیں بلکہ تجھے حقیقت حال سے آگاہ کرنے اور قوم کی نگرانی کی طرف توجہ دلانے کے لئے دکھایاگیاہے۔اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔اس آیت کے متعلق بعض لوگوں نے یہ شبہ ظاہر کیاہے کہ اس سے توپتہ لگتاہے کہ رسولوں میں سے بعض ظالم بھی ہوتے ہیں۔مگران کا یہ اعتراض نحوسے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔اِلَّا کبھی استثناء متصل کے لئے آتاہے اور کبھی استثناء منقطع کے لئے۔یعنی اِلَّا کے بعد بعض دفعہ نئے گروہ کا ذکر شروع ہو جاتا ہے اورپہلا ذکرختم ہو جاتا ہے۔اس جگہ بھی اِلَّا استثناء منقطع کے طور پر استعمال ہواہے اوراس کے معنے یہ ہیں کہ انبیاء کے علاو ہ دوسرے لوگوں میں سے جوشخص ظلم سے کام لے اورپھر ظلم کے بعد نیکی اختیار کرے توو ہ ڈرتاہے کہ معلوم نہیں میری توبہ قبول بھی ہوئی ہے یانہیں۔مگرحقیقت یہ ہے کہ میں بڑا بخشنے والا اور رحم