تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 48
يٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُۙ۰۰۱۰وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ اے موسیٰ ؑ!بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں جو غالب (اور)حکمت والاہوں۔اورتُولاٹھی پھینک۔اورجب اس نے فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ يُعَقِّبْ١ؕ اس (یعنی لاٹھی)کودیکھا کہ وہ ہل رہی ہے گویا کہ وہ ایک چھوٹاسانپ ہے توو ہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اورپیچھے مڑ کر نہ يٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّيْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ۰۰۱۱ دیکھا (تب ہم نے کہا )اے موسیٰ! ڈر نہیں۔میں وہ ہوں کہ رسو ل میرے حضور ڈرانہیں کرتے۔مگر جس نے ظلم کیا اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۲ لیکن پھر اس ظلم کو چھو ڑ کر نیکی اختیار کی۔میں (اس کے لئے)بڑابخشنے والا (اور)بار با ررحم کرنے والاہوں۔حلّ لُغَات۔تَھْتَزُّ۔تَھْتَزُّ اِھْتَزَّ سے فعل مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اوراِھْتَزَّتِ الْاِبِلُ کے معنے ہیں تَحَرَّکَتْ فِیْ سَیْرِھَا لِحُدَآءِ الْحَادِیْ حدی خواں کے حدی کرنے پر اونٹ تیز چلے۔اورجب اِھْتَزَّ الْمَآءُ فِیْ جَرَیَانِہٖ کہیں تومعنے ہوں گے تَطَلَّقَ۔پانی تیزی سے بہا اوراِھْتَزَّ الْکَوْکَبُ فِیْ انْقِضَاضِہٖ کے معنے ہیں اَسْرَعَ۔ستارہ جلدی سے ٹوٹا۔(اقرب )پس تَھْتَزُّ کے معنے ہوں گے۔جلدی چلتاہے۔اَلْجَآنُّ۔اَلْجَآنُّکے معنے ہیں حَیَّۃٌ بَیْضَآءُ کَحْلَاءُ الْعَیْنِ لَا تُؤْذِیْ۔سفید رنگ سرمگیں آنکھوں والا باریک سانپ جوکاٹتانہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم نے اس وقت موسیٰ ؑ سے کہا کہ اے موسیٰ ؑ! میں اللہ ہوں جو بڑاغالب اور حکمت والا ہوں۔اس سے بھی یہ مراد نہیں کہ آگ کے اند رخدا تعالیٰ تھا جس نے کہا کہ میں اللہ غالب اور حکمت والاہوں۔کیونکہ قرآن کریم کے کسی لفظ سے یہ ظاہر نہیں ہوتاکہ آگ کے اندر سے آواز آ ئی تھی۔قرآن کریم صرف یہ بتاتاہے کہ ایسی آواز آئی تھی خواہ وہ کہیں سے آئی ہو۔درحقیقت یہ آیت بُوْرِکَ مَنْ فِیْ النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ محبت الٰہی کی آگ میں جلنے والا انسان بڑی برکت پاتاہے اوریہ امر اس بات سے ظاہر ہے کہ میں اللہ غالب اورحکمت والاہوں یعنی جو میری