تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 47
بھی ظاہر ہوجاتے ہیں۔یعنی جو شخص محبت الٰہی کی آگ میں پڑاہواہو نہ صرف اس کو برکت دی جاتی ہے بلکہ اس کے ہم صحبت بھی برکت پاتے ہیں۔محبت کو دنیا کی تمام زبانوں میںآگ سے تشبیہ دی جاتی ہے اوررؤیا و کشوف میں بھی اگر کوئی شخص اپنے آپ کو آگ میں جلتاہوادیکھے تواس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ وہ عشق الٰہی کے مقام کو حاصل کرے گا۔پس بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا کا یہی مطلب ہے کہ جو شخص اس آگ میں پڑے گا و ہ برکت پا جائے گا اورجواس کے اندرنہیں پڑے گا۔بلکہ اس کے قریب آکر کھڑا ہوگاگویا اس سے کم حصہ لے گا وہ بھی برکت دیاجائے گا۔اگر مَنْ فِیْ النَّارِ سے مراد موسیٰ ؑ ہوتے توپھر سوال پیدا ہوتاتھا کہ مَنْ حَوْلَھَا سے کیا مراد ہے۔اس وقت سوائے حضرت موسیٰ ؑ کے آگ کے پاس اورکون تھا جس کے لئے مَنْ حَوْلَھَا فرمایاگیا۔پس اس جگہ کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہیں کیاگیا۔بلکہ یہ قانون بتایاگیاہے کہ جو اس آگ میں پڑے گا و ہ بھی برکت پائے گا اورجو اس کے پاس آکر اس کی گرمی حاصل کرے گا وہ بھی برکت پائے گا اورماضی کا لفظ مضار ع کے معنوں میں استعمال کیاگیا ہے یعنی برکت دیا جائے گا۔پرانے زمانہ میں دِلّی کے ایک بزرگ تھے ان کے پا س ایک دفعہ ان کاایک مرید آیا۔اوراس نے کہا کہ ہماراجو یہ خیال ہے کہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر جی ہندوستان کے نبی تھے یہ درست معلوم نہیں ہوتا۔کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک آگ جل رہی ہے اور حضرت کرشن جی تو اس کے اندر ہیں اور حضرت رامچندر جی اس کے کنارہ پر کھڑے ہیں۔وہ بزرگ کہنے لگے تم نے اس خواب کی تعبیر غلط سمجھی ہے۔آگ کے معنے محبت الٰہی کی آگ کے ہیں اوراللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ بتایاہے کہ کرشن جی خدا تعالیٰ کی محبت میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔اوررامچند ر جی ان سے کم درجہ رکھتے تھے۔اسی لئے حضر ت کرشن جی توآگ کے اندرجلتے ہوئے دکھائی دیئے۔اوررامچندر جی آگ کے کنار ہ پر کھڑے ہوئے نظر آئے (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۴۵۹)۔آگے فرماتا ہے وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔رب العالمین خداتمام عیبوں سے پاک ہے۔یعنی جنہوں نے یہ کہاہے کہ آگ میں خدا تعالیٰ تھا جیسا کہ بائیبل والوں نے وہ سب غلطی کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہرقسم کے تجسّم سے پاک اور منزہ ہے۔اسی طرح سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کہہ کر اس امر کی طرف بھی اشار ہ فرمایاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو برکت دیتاہے اس کے ذریعہ دنیا میں اس کی سبّوحیّت کا اظہار ہوتاہے اورہرقسم کے عیوب جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان کا ازالہ کردیاجاتاہے اورخدا تعالیٰ کا حسین چہرہ دنیا کو ایک بار پھر اپنی پوری شان کے ساتھ نظر آنے لگ جاتاہے۔