تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 46

نہیں کہلاسکتا۔پس یہ معنے کہ مَنْ فِی النَّارِ سے خدا تعالیٰ مراد ہے کسی صورت میں بھی درست نہیں ہوسکتے۔پھر بعض لوگوں نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بُوْرِکَ کا لفظ بولناجائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو برکت نہیں دی جاتی بلکہ وہ خود برکت دیتاہے فِیْ کے معنے پیچھے کے کئے ہیں اورمراد یہ لی ہے کہ وہ شخص جو اس آگ کے پیچھے آرہاہے یااس کی تلاش میں ہے اسے برکت دی گئی ہے۔مگر یہ معنے محاورہ کے خلاف ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فِیْ کے معنے پیچھے کے بھی آتے ہیں۔مگر یہ معنے ایسے موقعہ پر استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ فِیْ کے بعد کسی روحانی یامعنوی چیز کا ذکر ہو۔ایسے موقعہ پر استعمال نہیں کئے جاتے جبکہ اس کے بعد اشیاء یا اشخاص کا ذکرکیاگیاہو۔اور چونکہ مفسرین اس آگ کو جسمانی آگ قرار دیتے ہیں اور جسمانی چیز کے لئے جب فِیْ کا لفظ استعمال کیاجائے تو اس کے معنے پیچھے کے نہیں ہوتے۔اس لئے یہ معنے بھی درست نہیں سمجھے جاسکتے۔پھر بعض لوگوں نے فِیْ کے معنے قرب کے کئے ہیں اورفِیْ النَّارِکے معنے آگ کے قریب ہونے کے کئے ہیں (حاشیہ تفسیر قرطبی جلد ۱۳ص ۱۵۸)۔اوروَمَنْ حَوْلَھَا کو اس کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے حالانکہ وَمَنْ حَوْلَھَا کے الفاظ ہی ان معنوں کو ردّ کررہے ہیں۔کیونکہ خودمَنْ حَوْلَھَاکے معنے بھی قریب کے ہیں اور دوالفاظ سے ایک ہی مفہوم کواداکرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔پس یہ معنے بھی صحیح نہیں۔پھر بعض نے کہا کہ گو مَنْ کالفظ عام طور پر ذی عقل وجودوں کی طرف اشارہ کرتاہے مگر اس جگہ مَنْ سے مرادلایعقل اشیاء ہیں (تفسیر بحر محیط جلد۷ ص ۵۶)۔اورمراد یہ ہے کہ وہ لکڑیا ںجو اس آگ میں ہیں۔اوراس کے اردگرد کی جگہ بھی الٰہی تجلّی کی وجہ سے بابرکت ہوگئی ہے۔مگر میرے نزدیک یہ سب معانی غلط ہیں۔اورصرف نار سے دھوکا کھا کر کئے گئے ہیں۔چونکہ انہوں نے نار کو جسمانی نا ر سمجھا اس لئے وہ ان مشکلات میں گرفتارہوگئے۔لیکن جیسا کہ میں ثابت کرچکا ہوں نَارًا کے لفظ سے ثابت ہے کہ یہ نظارہ مادی آگ کا نہیں تھا بلکہ روحانی نا ر کاتھا۔اورجب اس آگ کو روحانی آگ قرار دے دیاجائے اورآگ سے مراد محبت الٰہی کی آگ سمجھ لیاجائے تواس آیت کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقّت باقی نہیں رہتی۔کشف یا خواب میں آگ دیکھنے سے مراد ہمیشہ محبت الٰہی کا جذبہ ہوتاہے۔پس بُوْرِکَ کے لفظ سے نہ خدا تعالیٰ مراد ہے نہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ مجسم نہیں اورنہ اس کوکوئی برکت دیتاہے۔اورنہ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِسے مراد موسیٰ ؑ ہیں۔بلکہ اس آیت میں ایک عام قانون الٰہی بیان کیاگیا ہے کہ ہروہ شخص جو محبت الٰہی کی آگ میں جل رہاہواس کو بر کت دی جاتی ہے۔اسی طرح نہ تو فِیْ کے معنوں کا جھگڑارہتاہے نہ مَنْ کے معنوں کا۔نہ بُوْرِکَ کی ترکیب کا اورآیت بالکل حل ہوجاتی ہے۔اوروَمَنْ حَوْلَھَا کے معنے