تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 472
یہی ہے کہ وہ خدائے واحد پرایمان لاکر بیت اللہ سے تعلق رکھنے والے گروہ میں شامل ہوجائیں۔کیونکہ سچاامن کبھی بھی روحانیت کے درست ہوئے بغیر دنیا میں قائم نہیں ہوسکتا۔دنیاکوشش کررہی ہے کہ ہتھیاروں کے ساتھ صلح کوقائم رکھے۔قانون کے ساتھ صلح کو قائم رکھے یاعقل کے ساتھ صلح کوقائم رکھے۔لیکن یہ تینوں چیز یں ناقص ہیں گواپنے اپنے دائر ہ میں ضروری بھی ہیں۔یہ تینوں چیزیں جب تک روحانیت کے ساتھ نہ ملیں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔ہتھیاروں کے ساتھ اس لئے امن قائم نہیں رکھا جاسکتاکہ ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجاتی ہے اورپھر یہ عادت ایسی پڑ جاتی ہے کہ صلح کے بعدبھی صلح کرانے والی قومیں ہتھیار جمع کرتی چلی جاتی ہیں۔جس طرح ایک مالدار بھرے ہوئے بٹوے کے بغیر سفر نہیں کرسکتا حالانکہ غریب آدمی چندپیسوں کے ساتھ سفرپر نکل کھڑاہوتاہے۔اسی طرح ہتھیار جمع کرنے والی قومیں ہتھیاروں کی ضرورت کےختم ہونے کے بعد بھی ہتھیار جمع کرتی چلی جاتی ہیں کیونکہ اپنے ہمسایہ سے ڈر نے کی عادت انہیں پڑ جاتی ہے اور کافی ہتھیاروں کے بغیر ان کے دل اطمینان نہیں پاتے۔قانون اس لئے امن قائم نہیں کرسکتاکہ قانون ظاہر پرحکومت کرتاہے باطن پر نہیں۔اورعقل اس لئے امن قائم نہیں کرسکتی کہ عقل اخلاق کے تابع نہیں ہوتی وہ یہ دیکھتی ہے کہ میرا یا میرے دوست کا فائدہ کس میں ہے وہ یہ نہیں دیکھتی کہ بعض ظاہر ی فائدے باطنی نقصان کاموجب ہوتے ہیں اورقریب کی دوستی بعید کوخراب کردیتی ہے۔لیکن روحانیت ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو دائمی طور پر نیکی کی طرف مائل رکھتی ہے کیونکہ روحانیت نام ہے جذبات کے اخلاقی رنگ میں ڈھل جانے کا۔اورجب جذبات اخلاقی رنگ میں ڈھل جائیں تولازماًعقل بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے اورایک ایسادوام پیداہو جاتا ہے جس کوکوئی لالچ یاکوئی حرص یاکوئی خوف اپنے مقام سے ہلانہیں سکتا۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ اورجو شخص اللہ (تعالیٰ) پر جھوٹ باند ھ کر افترا ء کرتاہے اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے ؟یا(ا س سے)جوسچی بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۰۰۶۹ بات کو اس وقت جھٹلاتاہے جب وہ اس کے پاس آجاتی ہے۔کیاایسے کافروں کی جگہ جہنم میں نہیں ہونی چاہیے ؟ تفسیر۔فرمایا۔اس شخص سے بڑھ کر اورکون ظالم ہو سکتا ہے جواللہ تعالیٰ پرافتراء کرتا اور اس افتراء کی