تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 473

جھوٹ پربنیاد رکھتاہے۔اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر اَورکون ظالم ہو سکتا ہے جوکسی سچائی کو اس وقت جھٹلاتاہے جب وہ اس کے پاس آجاتی ہے۔افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا کے متعلق یہ امر یاد رکھناچاہیے کہ ایک تووہ شخص ہوتاہے جوخدا تعالیٰ پر افتراء توکرتاہے۔مگر وہی بات اس کی طرف منسوب کرتاہے جواس کے الہام میں موجود ہوتی ہے گواسے نہیں کہی جاتی۔اورایک اَورشخص ہوتاہے جو اللہ تعالی کی طرف ایک بات غلط طورپر منسوب کرتاہے اورخدا تعالیٰ نے وہ بات کسی کتاب میں بھی نہیں کہی ہوتی۔پس یہ شخص افتراء بھی کرتاہے اوراس افتراء کی بنیاد بھی جھوٹ پر ہوتی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ منکرینِ اسلام کواس امر کی طرف توجہ دلاتاہے کہ تم میں دوعیب پائے جاتے ہیں جو انتہائی طورپر خطرناک ہیں۔ایک یہ کہ تم خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے ہو۔اورافترا ء بھی ایساجس کی بنیاد کسی الہام پر نہیں بلکہ جھوٹ پر ہے۔مثلاً تم کہتے ہو کہ اِتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا اللہ تعالیٰ نے فلاں شخص کواپنابیٹابنالیاہے حالانکہ یہ خدا تعالیٰ پرسراسر افتراء ہے اوراس کی بنیاد بھی کذب پر ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کفارکے اس عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآىِٕهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا(الکہف :۶) یعنی انہیں اس بار ہ میں کچھ بھی علم نہیں اورنہ ان کے باپ دادوں کو اس بارہ میں کوئی علم تھا۔یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ محض جھوٹ بول رہے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم میں آتاہے۔وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَيْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(الاعراف :۲۹) یعنی جب وہ کوئی براکام کرتے ہیں توکہتے ہیں۔ہم نے اپنے باپ داداکواسی طریق پر چلتے دیکھاتھا۔اوراس کے بعد وہ ایک اورقدم آگے بڑھتے ہیں اورکہتے ہیں ہمیں تواللہ تعالیٰ نے ہی ان کاموں کاحکم دیا ہے۔تو کہہ دے۔اللہ تعالیٰ کبھی بری باتوں کاحکم نہیں دیتا۔کیاتم اللہ تعالیٰ کے متعلق جھوٹے طور پر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تم کچھ بھی نہیں جانتے۔سورئہ انعام میںبھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَ(الانعام : ۱۰۱) یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنّوں میں سے کچھ شریک مقرر کئے ہوئے ہیں۔حالانکہ اسی نے انہیں پیدا کیاہے۔اورانہوں نے اس کے لئے جھوٹے طور پر بغیرکسی یقینی علم کے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کرلی ہیں۔خدا تعالیٰ ان تمام نقائص اورعیوب سے منزہ ہے اورجوکچھ وہ بیان کرتے ہیں اس سے وہ بہت بلند اورارفع ہے۔