تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 471
نقطہء مرکزی پر جمع کرنے کے لئے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی اورزمانہ ابراہیمیؑ میں اس عمارت کی تجدید ہوئی اوردنیا کےسامنے پہلی دفعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ اعلان کیاکہ یہ گھر اس لئے بنایاگیاہے کہ یہاں لوگ آئیں۔اس مقدس گھر کاطواف کریں۔اس میں عبادت اور ذکر الٰہی کریں اوردین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کی طرف زیر تفسیر آیت میں توجہ دلاتاہے اورفرماتا ہے کہ کیایہ لوگ غور نہیں کرتے کہ ہم نے بیت اللہ کے ذریعے امن عالم کے قیام کی کتنی زبردست تدبیر کی ہے اورکس طرح ہم نے عر بی اور غیر عربی مشرقی اورمغربی۔گورے اور کالے۔سرخ اورزرد سب کوایک مرکز پر جمع کردیاہے اورپھرا س گھرسے تعلق رکھنے والے لوگوںکو ایسی پُرامن تعلیم عطافرمائی ہے جس پر رعمل کرنے والے کانہ اپنا امن برباد ہوتاہے نہ ا س کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کاامن برباد ہوتاہے۔بلکہ اسلامی تعلیم کے ماتحت بیت اللہ سے سچاتعلق رکھنے والا وہی سمجھا جاسکتاہے جس کے ہاتھ ا ور جس کی زبان کے شر سے دنیاکاہرشخص محفوظ ہو۔گویابیت اللہ کے ذریعہ نہ صرف ایک مدرسئہ امن کھول دیاگیاہے بلکہ جو لوگ اس مدرسہ میں تعلیم پاتے ہیں۔و ہ بھی دنیا میں امن کے علمبردا ربن جاتے ہیں۔وہ جھوٹ نہیں بولتے۔وہ بدظنی نہیں کرتے۔وہ ظلم نہیں کرتے۔وہ بے جاغضب سے کام نہیں لیتے۔وہ لالچ میں مبتلانہیںہوتے۔اوریہی چیزیں دنیاکاامن برباد کرنے والی ہوتی ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک سچا تعلق قائم ہوجانے کی وجہ سے انہیں اطمینان قلب حاصل ہو جاتا ہے۔جبکہ باقی دنیا لالچ اورحرص کی آگ میں جل رہی ہوتی ہے۔اورلوگوں کو نہ اپنے قلو ب میں اطمینان نظر آتاہے۔اورنہ ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے اپنے آپ کو مطمئن پاتے ہیں۔اسی امر کی طر ف وَیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ میں اشارہ کیاگیا ہے کہ کعبۃ اللہ سے تعلق رکھنے والوں نے تو خدائے واحد کی تعلیم پر عمل کرکے ہمیشہ کاامن حاصل کرلیا۔لیکن ان کے اردگرد جواقوام بس رہی ہیں وہ اسلامی تعلیم کوقبول نہ کرنے کی وجہ سے بدامنی کاشکار ہورہی ہیں۔ان میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ان میں جھگڑے اورفسادات بھی ہوتے ہیں ان کے مال و اسباب بھی لوٹے جاتے ہیں۔غرض امن صرف انہی لوگوں کو میسر ہے۔جوخدائے واحد پر ایما ن لاکر بیت اللہ کے ساتھ سچاتعلق رکھتے ہیں۔باقی سب دنیا میں بدامنی ہی بدامنی پائی جاتی ہے اورہردل بے چینی اوراضطراب کاشکار ہے۔اللہ تعالیٰ اس نمایاں امتیاز کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب بیت اللہ کے ذریعے دنیا میں اتنا بڑاانقلاب پیداہوچکاہے توکیااس کے بعد بھی انہیں اپنی باطل سکیموں کی کامیابی پر یقین ہے اوروہ خدا تعالیٰ کے اس عظیم الشان انعام کی ناقدری کرتے ہیں جوخدا تعالیٰ نے ان کی بے چینی اورخلش کودورکرنے کے لئے خودآسمان سے نازل فرمایا ہے۔اگر وہ عالمگیر امن قائم کرنے کے خواہشمند ہیں تواس کاطریق