تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 470

یہ معنے توصرف مکہ والوں کی مناسبت کے لحاظ سے کئے گئے ہیں لیکن ایک دوسرے نقطہءِ نگاہ سے اس آیت کو دیکھاجائے تواللہ تعالیٰ نے اس میں بیت اللہ کو جوتوحید کامرکز ہے امنِ عالم کے قیام کا ایک زبر دست ذریعہ قرار دیا ہے اوربتایاہے کہ دنیاکوحقیقی امن صرف اسی صورت میں میسر آسکتاہے جب وہ توحید کے اس مرکز سے تعلق رکھے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اس وقت اتنے مذاہب پائے جاتے ہیں اوران مذاہب کی تعلیمیں آپس میں اس قدر مختلف ہیں اوران مختلف مذاہب کے پیرواپنے خیالات میں اتنا اختلاف رکھتے ہیں کہ بظاہر دنیا میں یکجہتی اور اتحاد پیداہوناناممکن دکھائی دیتاہے صرف ایک ہی نقطہ مرکزی ہے جس پر تمام مذاہب کااتحادہو سکتا ہے اوروہ توحید باری تعالیٰ کانقطہ ہے۔جس طرح بھائی بھائی کاآپس میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن باپ پر سب کااتحاد ہو جاتا ہے۔اسی طرح مذاہب کاآپس میں ہزار اختلاف سہی توحید باری تعالیٰ ایک ایساعقیدہ ہے جس سے دنیاکاکوئی مذہب اختلاف نہیں کرسکتا اوریہی حقیقی مواخات پیداکرنے کاایک زبردست ذریعہ ہے۔جب تک دنیا یہ نہ سمجھے کہ زید اوربکر اورعمر اورخالد سب میرے رب کی مخلوق ہیں اورانہیں بھی اسی خدا نے پیدا کیاہے جس نے مجھے پیدا کیاہے اس وقت تک ایک دوسرے کی تحقیر اورعناد کاجذبہ دلوں سے مٹ نہیں سکتا۔اسلام نے امن عالم کے قیام کے لئے سب سے پہلے اسی نقطئہ مرکزی کو لیا۔اورتوحید باری تعالیٰ کو دنیا میں قائم کیا اورانسانی قلوب میں یہ امر راسخ کیا کہ اسلام کا خدا رب العالمین ہے۔یعنی وہ اسی طرح مسلمانوں کا خداہے جس طرح ہندوئوں اورعیسائیوں اور یہودیوں اور زرتشتیوں وغیرہ کا خداہے۔جب ایک عیسائی اور یہودی بھی ہمارے خدا کاویساہی بندہ ہے جیسے ایک مسلمان تو ایک سچے مسلمان کے دل میں کسی ہندویاعیسائی یایہودی یازرتشتی کابغض کبھی پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ان سب کو اپنابھائی تصور کرے گااوراس کی محبت کاہاتھ ان سب کی طرف اسی شوق کے ساتھ بڑھے گا جس شوق کے ساتھ ایک مسلمان کی طر ف بڑھتاہے۔پس اسلام نے امن عالم کے قیام کے لئے توحید کاسبق پیش کیا اورپھر اس سبق کوہمیشہ کے لئے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے اس نے مسلمانوں کو بیت اللہ کے ساتھ وابستہ کردیا۔قرآن کریم کہتاہے کہ اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ(اٰل عمران: ۹۷)یعنی سب سے پہلا گھر جوتمام دنیا کے فائدہ کے لئے بنایاگیاتھا وہ ہے جو مکہ میں ہے۔اب ظاہر ہے کہ ایسا گھر جوتمام د نیاکے اتحاد کا نقطئہ مرکزی تھا اسے وہ مذاہب نہیں بناسکتے تھے جن کی نگاہ کبھی قومی حد بندیوں سے آگے نہیں گئی۔ایساگھر صرف خدا تعالیٰ کے الہام او راسی کے منشاء کے مطابق تعمیر ہوسکتاتھا۔سوخدا نے تمام دنیا کو ایک